.

یمن: مساجد پر خودکش بم حملے، 141 افراد ہلاک

داعش نے حوثیوں کی مساجد کو خون میں نہلانے کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں دو مساجد میں نماز جمعہ کے وقت خود کش بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ایک سو اکتالیس [141] افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ خودکش بمباروں نے صنعا کے جنوب میں واقع مسجد البدر اور شمال میں واقع مسجد الحشوش میں گھس کر بم دھماکے کیے ہیں۔اس وقت ان دونوں مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی اور حوثیوں کی بڑی تعداد مساجد میں موجود تھی۔

پہلا خودکش حملہ جنوبی صنعا میں واقع بدر مسجد میں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد جب نمازیوں نے باہر کی جانب بھاگنا شروع کیا تو مسجد کے مرکزی دروازے پر کھڑے خود کش بمبار نے بھی اپنی بارودی بیلٹ کو اڑا دیا۔ تیسرا خودکش حملہ شمالی صنعا میں واقع مسجد الحشوش میں ہوا۔ دونوں مقامات پر خود کش حملوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ حملوں کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والے انسانوں کے خون سے دونوں مساجد لِتھڑ گئی تھیں۔

یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں بھی ایک بم دھماکا ہوا ہے جس میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے ستمبر سے دارالحکومت صنعا اور یمن کے بیشتر شمالی اور وسطی علاقوں میں سرکاری سکیورٹی فورسز کو نکال باہر کرنے کے بعد اپنی عمل داری قائم کر رکھی ہے۔

شام اور عراق میں سرگرم انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ 'داعش' نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں صنعا میں یمن کی اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے نے اِن حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی اور اُس پر عمل درآمد کرنے کا الزام جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ پر دھرا تھا۔ اِس دوران جہادی تنظیم القاعدہ کے ایک لیڈر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اِن حملوں میں القاعدہ ملوث نہیں ہے۔ رواں برس جنوری میں صنعا کی پولیس اکیڈیمی پر کار بم حملے کے بعد مساجد پر کیے گئے یہ خود کش حملے شدید ترین ہیں۔ پولیس اکیڈیمی پر کیے گئے حملے میں چالیس افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

گذشتہ برس شیعہ حوثی ملیشیا نے یمنی دارالحکومت پر چڑھائی کر دی تھی۔ اِس دوران صدر عبدالرب منصور ہادی کی حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی۔ انہوں نے اپنے وزیراعظم خالد بحاح کی تقلید میں منصبِ صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ استعفیٰ یمنی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا۔ اب منصور ہادی بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر عدن میں متوازی حکومت قائم کیے ہوئے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ وہ وہاں سے ملکی فوج کو منظم کر کے شیعہ حوثی ملیشیا کو صنعا سے باہر نکال کر اپنی حکومت کا اختیار قائم کریں۔