.

''ایران داعش مخالف جنگ میں امریکا کا اتحادی نہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان برینان نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے اور اب اس کو پسپائی کا سامنا ہے۔اںھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں ایران امریکا کا اتحادی نہیں ہے۔

وہ اتوار کو فاکس نیوز سے نشر ہونے والے ایک پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''عراق اور شام میں داعش کو واضح طور پر روک دیا گیا ہے۔اب وہ چند ماہ پہلے کی طرح پیش قدمی نہیں کررہے ہیں''۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک گذشتہ سال اگست سے ان دونوں ممالک میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔جان برینان نے عراقی حکومت کی فورسز کو بھی داعش کو پسپا کرنے کا کریڈٹ دیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہم عراقیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں،وہ داعش کو پسپا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور انھوں نے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں نمایاں پیش رفت کی ہے''۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''امریکا اور ایران اگرچہ داعش کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں لیکن میں ایران کو اس جنگ میں امریکا کا اتحادی خیال نہیں کرتا ہوں''۔واضح رہے کہ سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن بھی قبل ازیں ایران کے جنگ زدہ عراق میں بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عرا ق میں ایران کا کردار موافقانہ نہیں ہے۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک تقریر میں عراق کے شمالی شہر تکریت میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف عراقی فورسز اور ایران کے خصوصی دستوں کے آپریشن پر خاص طور پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کارروائی دراصل اہل تشیع کی سنی آبادی کے شہر پر چڑھائی نظر آرہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کو ایران کے ساتھ سراغرسانی کا تبادلہ بالکل بھی نہیں کرنا چاہیے باوجود اس امر کے کہ دونوں داعش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''اسلامی جمہوریہ ایران کا حتمی مقصد کچھ اور ہے۔ہم عراق میں تمام بڑے مذہبی اور نسلی دھڑوں اور گروپوں پر مشتمل ایسی حکومت چاہتے ہیں جو اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے مگر ایران ایسا نہیں چاہتا ہے''۔