.

یمنی حوثیوں کا تعز کے مرکزی ہوائی اڈے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شیعہ حوثی باغی اور ان کے اتحادیوں نے اتوار کے روز یمنی میدان جنگ کے مرکزی شہر تعز کے ہوائی اڈے کا کنڑول صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حامیوں سے چھین لیا ہے۔

تعز کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ شہر دارلحکومت صنعاء اور جنوبی شہر عدن کو ملانے والی اسٹرٹیجک اہمیت کی شاہراہ پر واقع ہے۔ اس شاہراہ پر گذشتہ برس ستمبر میں حوثی باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا اور اسی کے راستے صدر ہادی گذشتہ ماہ صنعاء میں اپنی جبری نظری بندی توڑ کر عدن فرار ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق جنوبی شہر عدن میں صدر منصور ہادی کے کمپاونڈ پر پرواز کرنے والے ایک نامعلوم جہاز پر طیارہ شکن توپ سے فائرنگ کی گئی۔ اس محل میں صنعاء سے فرار ہو کر آنے والے مںصور ہادی مقیم ہیں۔

گذشتہ چار دنوں کے دوران اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے کہ جس میں نامعلوم طیاروں نے صدارتی کمپاونڈ پر پرواز کی ہیں۔ ایک موقع پر نامعلوم طیارے نے کمپاونڈ پر بم بھی گرائے تاہم اسے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

عدن کے گورنر عبدالعزیز بن حبتور نے حوثی تحریک پر ایسی پروازوں کا الزام عاید کیا ہے، یمن کے شمال کا اکثر علاقہ کںڑول کرنے والے ایران نواز حوثی گروپ نے ابھی معاملے پر معنی خیز چپ سادھ رکھی ہے۔

امریکی فوجیوں کی واپسی

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں امریکا نے یمن سے اپنے بچے کھچے سفارتی عملے کو بھی سیکیورٹی کی ابتر صورتحال اور صنعاء میں مساجد پر حملوں میں 142 حوثیوں کی خودکش حملوں میں ہلاکت کے بعد واپس بلا لیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جیف راژکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ"یمن میں سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث واشنگٹن نے اپنا سفارتی عملہ جلدی واپس بلا لیا ہے۔"

امریکا نے سیکیورٹی خدشات ہی کو بنیاد بنا کر جنوبی یمن کی العند ائر بیس پر تعینات اپنے فوجی بھی واپس بلا لئے ہیں۔ یمن کے فوجی ذرائع نے ہفتے کے روز ائر بیس کے قریب لڑائی کی اطلاع دی تھی۔

لحج گورنری کے فوجی اڈے پر تعینات ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہاں متعین فوجی جمعہ کے روز 'نامعلوم' منزل کی سمت روانہ ہو گئے۔ بیس پر امریکی فوجی یمنیوں کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تربیت دے رہے تھے اور ان کا ٹھکانہ بھی العند ہی بتایا جاتا ہے۔

یمنی حکام اس امر کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ القاعدہ کے خلاف بغیر پائیلٹ جاسوسی طیاروں کو اپنے اہداف سے متعلق انٹیلیجنس جمع کر کے دینے والے امریکی فوجی بھی العند بیس پر مقیم ہیں۔