.

لیبیا: متحارب گروہوں میں مذاکرات بحال، عالمی طاقتوں کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی طاقتوں اور امریکا نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں متحدہ حکومت کے قیام کے لئے لیبیا کی متحارب سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔

فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین، برطانیہ اور امریکا کے ایک مشترکہ بیان میں فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کریں اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوں تاکہ قومی متحدہ حکومت کا معاہدہ ہوسکے اور جنگ بندی کی تیاریاں جلد از جلد مکمل کی جاسکیں۔

بیان میں کہا گیا "ہم لیبی سیاسی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور مذاکرات کے لئے اپنی حمایت کا کھل کر ایادہ کریں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ متحارب گروہ فوج اور ملیشیا کے لیڈران پر قابو رکھیں اور شہریوں کی نگرانی کریں۔"

عالمی طاقتوں کا کہنا تھا "ہمیں لیبیا میں داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش ہے جنہوں نے ملک میں ایک طاقتور، متحد اور مرکزی حکومت کی غیر موجودگی میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا لیا ہے۔"

"اقوام متحدہ کی سربراہی میں قومی حکومت کے قیام کا عمل لیبی عوام کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے اور سیاسی تبدیلی کو درپیش عدم استحکام اور تشدد کا مقابلہ کرنے کی بہترین امید ہے۔

مغربی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات لیبیا میں جاری بحران کے خاتمے کا واحد راستہ ہیں۔ فریقین نے پچھلے کچھ دنوں کے دوران لڑائی میں جنگی جہازوں کا بھی استعمال شروع کردیا ہے۔