.

ایران میں’’جشن نوروز‘‘ کی خوشی ماتم میں تبدیل!

حضرت فاطمۃ کی تاریخ وفات پرسال نو کا جشن منانے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سال نو اور’’جشن نوروز‘‘ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسلامی مہینے کے حساب سے انہی ایام میں حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کی تاریخ وفات بھی آ رہی ہے۔ حضرت فاطمہ کی تاریخ وفات کی وجہ سے جشن نوروز کی تقریبات ماتم میں تبدیل ہوگئی ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں ہرسال 21 مارچ کو نئے سال کا پہلا دن ’’جشن نوروز‘‘ کے طورپر منایا جاتا ہے۔ پچھلے سال ستمبر میں ایرانی حکومت کی طرف سے یہ اعلان کردیا گیا تھا کہ آئندہ سال ’’جشن نورز‘‘ کی تقریبات کو سادگی سے منایا جائے گا کیونکہ جشن نوروز کے ایام میں حضرت فاطمہ الزھراء کی تاریخ وفات بھی آرہی ہے۔ اسی طرح نو ربیع الاول کو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کی شہات کو بھی ایران میں’’جشن‘‘ اور عید کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ ایران کے مذہبی انتہا پسند حضرت عمرفارق رضی اللہ عنہ کی شہادت کو خوشی کا دن قرار دے کرہرسال نو ربیع الاول کو جشن مناتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما اور جامع تہران کے امام و خطیب محمد علی موحدی کرمانی نے ولایت فقیہ کے حاملین سے کہا ہے کہ وہ جشن نوروز کو خوشی کے بجائے غم اور عزاء داری کے اندازمیں منائیں۔

مذہبی حلقوں کے علاوہ ایرانی میڈیا نے بھی اس موضوع پر خصوصی توجہ مرکوز کیے رکھی ہے۔ مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب اخبار’’کیہان‘‘ میں شائع جمیل ظاہری نے اپنے مضمون حضرت فاطمہ کے بارے میں اہل تشیع کےہاں مروجہ[موضوع ] احادیث بیان کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت فاطمہ کی وفات پر عزاداری اور ماتم کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے بعض متنازع نوعیت کی احادیث کابھی حوالہ دیا ہے۔ اہل سنت والجماعت ان احادیث کی صحت پر سحت اعتراض کرتے ہیں۔

ایران میں عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ’’العالم‘‘ ٹی وی پر بھی حضرت فاطمہ کی تاریخ وفات کے حوالے سے پروگرام پیشے کیے گئےاور جشن نوروز کے موقع پر شہریوں کو خوشی منانے سے گریز کی ہدایت کی گئی۔