.

یمنی وزیر خارجہ کی ملک میں خانہ جنگی کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نامزد وزیر خارجہ ریاض یاسین کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کا طوفان ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے۔

'العربیہ' نیوز سے بات کرتے ہوئے ریاض یاسین نے کہا کہ یمن کا دستوری نظام تہ وبالا کرنے کہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے باغی حوثیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی کے حالیہ خطاب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس میں کی جانے والی گفتگو جنوبی یمن کے خلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔

ریاض یاسین نے الزام عاید کیا کہ شیعہ مسلک کے پیروکار حوثی باغی اور سابقہ حکمران جنگ کے ذریعے جنوبی یمن پر قبضہ کر کے اسے ایران کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے اتوار کے روز ایک نشری خطاب میں جنوبی یمن پر حملے کے لئے نفیر عام کیا تھا۔ انہوں نے عوام کو جنوبی یمن پر چڑھائی کی کال دیتے ہوئے کہا اس کا مقصد داعش اور القاعدہ کو شکست دینا ہے۔

اس سے قبل یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر نے بھی یو این سلامتی کونسل میں خطاب کرتے خبردار کیا تھا کہ شام، عراق اور لیبیا کی طرح یمن بھی ایک طویل خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس یمن کے صدر عبد ربہ وہ منصور ہادی کی درخواست پر بلایا گیا جس میں ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

یمنی صدر نے فروری میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شہر چھوڑ دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ یہ خیال ایک سراب ہے کہ شیعہ حوثی باغی پورے ملک کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر ہادی بھی ایسی فوج جمع نہیں کر سکتے جو اقتدار کے دوبارہ حصول کے لیے ان کی مدد کر سکے۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہوا ہے جب یمن کے مقامی میڈیا کے مطابق سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی شیعہ باغیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز پر قبضہ کر لیا ہے۔

مقامی میڈیا نے ملک کے سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار کو تعز کے ہوائی اڈے سمیت شہر کے مختلف علاقے حوثی باغیوں کے کنٹرول میں تھے۔

تعز پر قبضہ شیعہ باغی گروہ حوثی قبائل کی جانب سے موجودہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حامی فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد ہوا ہے۔ یمنی صدر نے دارالحکومت سے نکل جانے کے بعد اپنے پہلے قومی خطاب میں اتوار کو حوثی باغیوں کو چیلنج کیا تھا۔

ادھر امریکا نے یمن میں سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ یمن میں موجود متحارب باغی گروہوں جن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں کا تشدد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔