.

فلسطین پر 50 سالہ اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے پہلی بار باضابطہ طور پر اسرائیل سے فلسطین کے مقبوضہ عرب علاقوں پر ناجائز قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وائٹ ہائوس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرتے ہوئے خود مختار فلسطینی ریاست کی تشکیل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق وائیٹ ہائوس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کے فلسطینی ریاست کےقیام کی مخالفت میں دیے گئے بیانات کی ایک بار پھر مذمت کی گئی ہے۔ وائٹ ہائوس کے سیکرٹری جنرل ڈٰنیس ماکیڈونو نے امریکی یہودیوں کے گروپ ’’جے اسٹریٹ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو کے ایک حالیہ متنازعہ بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا’’ہمارے لیے اس طرح کے بیانات سے نمٹنا زیادہ آسان نہیں ہے۔ اس طرح کے بیانات کبھی بھی نہیں دیے جانے چاہئیں جس طرح کا متازعہ بیان نتین یاھو کی جانب سے سامنے آیا جس میں انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی تھی۔"

"اس طرح کی بیان بازی قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے بالخصوص براہ راست مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بری طرح متاثرہونے کا اندیشہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل پچاس سال سے فلسطین پر قبضہ ختم کرے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

مسٹر ماکیڈونو کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں کنیسٹ کے ایک انتخابات سے ایک روز قبل نتین یاھو کا بیان تشویش میں مبتلا کردینے والا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر میری حکومت بنی تو فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دوں گا۔ ملک کا وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے انہیں اس طرح کا بیان دینے کی کیا ضرورت تھی؟۔اس بیان سے ہم سب تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

وائیٹ ہائوس کے سیکٹری جنرل جو صدر اوباما کے مشیر بھی ہیں فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یہودی کالونیوں کی تعمیر وتوسیع کی مخالفت کی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں اسرائیل کی یہودی بستیاں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ بدقسمتی سے اس رکاوٹ میں دن بہ دن زیادہ شدت آتی جا رہی ہے۔

ہال میں موجود شرکاء نے مسٹر ڈنیس ماکڈونو کے خیالات کی تالیوں کی گونج میں تائید کی اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں سے قبضہ ختم کرنے کا عالمی مطالبہ تسلیم کرے۔