.

لیبی طیاروں کی طرابلس کے نزدیک کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت نواز فوج نے مراکش میں جاری امن مذاکرات کے دوران فضائی کارروائی کرتے ہوئے اسلام پسند ملیشیا کا ہتھیاروں کا ڈیپو تباہ کردیا۔

مگر ملیشیا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوجی ترجمان کرنل احمد المسماری کا کہنا تھا "فضائی حملے میں طرابلس کے جنوب مشرق میں ترھونا فجر لیبیا کی ہتھیاروں کی کھیپ کو نشاںہ بنایا گیا تھا۔"

فجر لیبیا کے ایک ترجمان کے مطابق اس علاقے میں کوئی ہتھیار موجود نہیں تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا "آٹھ لیبی شہری اس حملے دوران مارے گئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ ان کی حکمت عملی ہے۔ یہ شہریوں کو قتل کرتے ہیں اور بین الاقوامی برادری کے سامنے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہتھیاروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔"

کرنل مسماری کا کہنا تھا کہ اس حملے کے بعد فجر لیبیا نے جوابی کارروائی کے طور پر ایک فوجی افسر کے گھر پر حملہ کردیا اور گھر میں موجود تمام افراد کو قتل کردیا۔ فجر لیبیا نے کارروائی کا دعویٰ مسترد کردیا۔

لیبیا 2011ء میں معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے بعد سے شدید بحران کا شکار ہے۔ لیبیا میں دو حکومتیں اور پارلیمنٹ کام کررہی ہیں۔ اگست 2014ء میں فجر لیبیا نے طرابلس پر قبضے کے بعد اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا جبکہ ملک کے مشرقی کونے میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے اپنا نظام بنا رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے فریقین کو بٹھا کر متحدہ حکومت کے قیام پر بات چیت کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں مگر اقوام متحدہ کے سفیر برناردینو لیون کا کہنا ہے کہ انہیں مراکش میں جاری مذاکرات سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں۔