.

نیوزی لینڈ پہلی مرتبہ عالمی کپ کے فائنل میں!

جنوبی افریقہ دلچسپ مقابلے کے بعد آخری اوور میں شکست سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی عالمی کپ کرکٹ ٹورنا منٹ کے پہلے سیمی فائنل میں ایک دلچسپ مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کو چار وکٹ سے ہرا دیا ہے اور وہ پہلی مرتبہ کرکٹ عالمی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں منگل کو کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میچ میں جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈویلیئرز ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور ان کی ٹیم نے 43 اوورز میں پانچ وکٹ کے نقصان پر 281 رنز بنائے۔آک لینڈ میں بارش کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے میچ روکنا پڑا تھا جس کے بعد میچ انتظامیہ نے اوورز کی تعداد پچاس سے کم کرکے تینتالیس کردی تھی۔

ڈک لوئس فارمولے کے تحت نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 43 اوورز ہی میں 298 رنز کا ہدف دیا گیا تھا۔میچ کے آخری اوور میں نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 12 رنز درکار تھے۔کریز پر موجود پہلے ڈینیل ویٹوری نے باؤلر ڈیل اسٹین کی گیند پر چوکا لگایا۔پھر ایک رنز بنایا۔آخری دو گیندوں پر نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پانچ رنز بنانا تھے اوراس کے اسٹار بلے باز گرانٹ ایلیٹ نے پانچویں گیند پر چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہم کنار کردیا۔انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے اپنی اننگز کا آغاز اچھا نہ ہونے کے باوجود جارحانہ انداز میں بلے بازی کی اور 6.53 کی اوسط سے 43 اوورز میں 281 رنز بنائے۔جنوبی افریقہ کے اوپنر بلے باز ہاشم آملہ آج اس اہم میچ میں کوئی بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے اور صرف دس رنز بنا کر ٹی اے بولٹ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ان کے بعد ڈی کاک بھی صرف 14 رنز بنا کر پویلین کو لوٹ گئے۔انھیں بولٹ کی گیند پر ٹی جی سوٹھی نے کیچ آؤٹ کیا۔

ابتدائی دو کھلاڑیوں کے جلد آؤٹ ہوجانے کے بعد ایف ڈو پلسیس اور آر آر روسو نے ذمے دارانہ انداز میں بلے بازی کی اور 26 اوور میں اپنی ٹیم کے اسکور کو 114 تک پہنچا دیا۔اس موقع پر روسو 39 رنز بنا کر اینڈرسن کی گیند پر گپٹل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ان کے بعد کپتان اے بی ڈویلیئرز نے جارحانہ انداز میں بلے بازی کی اور 45 گیندوں پر 65 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

جنوبی افریقہ کے نمایاں اسکورر پلسیس 82 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔آخری اوورز میں ڈی اے ملر نے انتہائی جارحانہ انداز میں بلے بازی کی اور صرف 18 گیندوں پر 49 رنز بنائے۔وہ جنوبی افریقہ کے آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی تھے۔جے پی ڈومنی آٹھ رنز بنا کر ناٹ رہے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے اینڈرسن سب سے کامیاب باؤلر رہے۔انھوں نے جنوبی افریقہ کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

جنوبی افریقہ کی بلے بازی کے جواب میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے پُراعتماد اور جارحانہ انداز میں اپنی اننگز کا آغاز کیا اور اوپنر ایم جے گپٹل اور کپتان برینڈن میکلم نے پہلی وکٹ کی شراکت میں صرف چھے اوور میں 71 رنز بنالیے تھے۔میکلم ساتویں اوور کی پہلی گیند پر مورکل کی گیند پر اسٹین کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔انھوں نے صرف 26 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔انھوں نے آٹھ چوکے اور چار چھکے لگائے۔

ان کے بعد ولیمسن کھیلنے کے لیے آئے لیکن صرف چھے رنز بنا کر پویلین کو لوٹ گئے۔گپٹل 34 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ٹیلر30 اور اینڈرسن 58 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔وکٹ کیپر ایل رونچی صرف آٹھ رنز بنا سکے۔اس میچ کے ہیرو گرانٹ ایلیٹ 84 رنز بنا کر ناٹ آٔٹ رہے ہیں اور ان کا فاتحانہ چھکا کرکٹ کے شائقین مدتوں یاد رکھیں گے۔ جنوبی افریقہ کے مورکل سب سے کامیاب باؤلر رہے۔ انھوں نے نیوزی لینڈ کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اس ٹورنا منٹ میں اب تک کوئی میچ نہیں ہارا ہے جبکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 1992ء میں عالمی کرکٹ میں واپسی کے بعد سے اچھی کارکردگی کے باوجود اب تک عالمی کپ کرکٹ ٹورنا منٹ کے کسی فائنل میں پہنچ نہیں سکی ہے۔اس مرتبہ اس کی شاندار کارکردگی کے پیش نظر یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ پہلی مرتبہ شاید فائنل تک رسائی حاصل کر لے لیکن وہ نیوزی لینڈ کی ٹیم سے دلچسپ اور جاندار مقابلے کے بعد ہار گئی ہے۔

میچ کے بعد جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان اے بی ڈویلیئرز نے کہا کہ انھیں ہار پر کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ وہ شاندار کھیل کر ہارے ہیں اور ان کے مقابلے میں بہتر ٹیم جیتی ہے۔نیوزی لینڈ کی فتح کے بعد اسٹیڈیم میں شائقین کا جوش وخروش دیدنی تھا اور وہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی جبکہ آک لینڈ شہر میں رات کے وقت آتش بازی جاری تھی اور شہری اپنی ٹیم کی فتح کا جشن منا رہے تھے۔