.

حوثیوں کا حملہ، یمنی صدر بدستور عدن میں موجود

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ یمن میں فوجی کارروائی پر غور کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کی زمینی پیش قدمی اور فضائی حملے کے باوجود جنوبی شہر عدن ہی میں موجود ہیں اور وہ اس شہر سے کہیں اور نہیں گئے ہیں۔

یمنی وزیر خارجہ ریاض یاسین نے بدھ کو العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر منصور ہادی سے متعلق بعض مغربی خبررساں اداروں کی ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی کے بعد شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے ہیں۔انھوں کہا کہ صدر ہادی یمن ہی میں موجود ہیں اور کہیں نہیں گئے۔

انھوں نے حوثیوں کی مسلح یلغار کو پسپا کرنے کے لیے غیرملکی فوجی امداد کی اپیل کی ہے۔انھوں نے کہا کہ منصور ہادی کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت حوثی باغیوں سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گی جب تک کہ وہ صنعا سے واپس اپنے آبائی شمالی علاقوں کی جانب نہیں لوٹ جاتے ہیں۔

عرب لیگ کا اجلاس

یمن کی ابتر صورت حال پر غور کے لیے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا جمعہ کو اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔اس اجلاس میں یمنی وزیرخارجہ کی جانب سے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی مداخلت کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

عرب لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل احمد بن ہیلی نے بتایا ہے کہ یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے تنظیم سے حوثی شیعہ باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے فوجی مداخلت کی درخواست کی ہے۔انھوں نے حوثیوں کو شیعہ ایران کا گماشتہ گروپ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ان کے ملک پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یمنی صدر نے دارالحکومت صنعا سے بھاگ آنے کے بعد عدن کو اپنا مسکن بنا رکھا ہے اور وہ وہیں سے امور مملکت چلا رہے ہیں۔بدھ کو ایک جنگی طیارے نے عدن میں صدارتی کمپاؤنڈ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ طیارے نے صدارتی کمپلیکس پر تین میزائل داغے تھے لیکن فضائی دفاعی نظام کے ذریعے اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔عینی شاہدین نے صدارتی کمپلیکس کے نزدیک سے دھواں اٹھنے کی اطلاع دی ہے۔

درایں اثناء حوثیوں کے زیر قبضہ یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک نشریے میں صدر ہادی کو پکڑنے والوں کے لیے قریباً ایک لاکھ ڈالرز کی پیش کش کی ہے۔ادھر جنوبی شہر لحج میں حوثی باغیوں نے یمن کے وزیردفاع میجر جنرل محمود الصبیحی اور ان کے ایک مشیر اعلیٰ کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں دارالحکومت صنعا منتقل کردیا ہے۔لحج میں حوثی باغیوں اور صدر ہادی کی وفادار یمنی فورسز اور مقامی قبائل کے درمیان لڑائی جاری ہے۔