.

آپریشن ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ لبنان کی حمایت، حزب اللہ محتاط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں خلیجی ممالک نے ریاض کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے وہیں خلیج سے باہر کے ممالک مصر، پاکستان، سوڈان اور مراکش کے بعد اب لبنان نے بھی اس آپریشن کی حمایت کی ہے۔ تاہم دوسری جانب حوثی نواز لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ اور گروپ ’آٹھ مارچ‘ خاموش ہیں اور نہایت محتاط ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سعودی فضائیہ نے ایران نواز حوثی باغیوں کے کئی اہم مراکز پر بمباری شروع کی تو تہران کی جانب سے آپریشن کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری آپریشن "فیصلہ کن طوفان" کا مقصد یمن میں آئینی صدر عبد ربہ منصور ھادی کی حکومت کی بحالی اور حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

لبنان میں حزب اللہ اورایران کے مقرب سمجھے جانے والے ٹیلی ویژن چینلوں پر اگرچہ یمن میں سعودی عرب کی فوجی کارروائی کو مسلسل کوریج دی جا رہی ہے تاہم ابھی تک حزب اللہ کی جانب سے براہ راست اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حزب اللہ نواز تجزیہ نگار اپنے طور پر ٹی وی چینلوں کے ذریعے سعودی عرب کے خلاف اپنا غصہ نکالنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

اس حوالے سے پہلا رد عمل ایران کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ ایرانی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کی قومی سلامتی وخارجہ کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی نے سعودی عرب کی فوجی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکومت نے یمن میں حوثیوں خلاف جاری سعودی عرب کے فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے فضائی آپریشن شروع ہونے کے بعد کئی ممالک نے ریاض کی کھل کرحمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس آپریشن کی اس لیے حمایت کر رہے کیونکہ اس کا مقصد یمن میں امن وامان کا قیام، منتخب اور آئینی صدر کی اقتدار پرواپسی اور خطے میں ایران کے بڑھتے سیاسی اثرو نفوذ کی راہ روکنا ہے۔

لبنان میں دروز فرقے کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ ولید جنبلاط نے بھی فوجی آپریشن میں سعودی عرب کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف ریاض کے فوجی آپریشن میں خطے کے تمام ممالک کو کھل کر سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر بھی سعودی عرب کے ’فیصلہ کن طوفان‘ آپریشن کوغیر معمولی کوریج مل رہی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹیوٹر" کے صارفین کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائی کو مذاحیہ پیرائے میں لینے کے بجائے ریاض کی حمایت کی ضرورت ہے۔ لبنان میں سوشل میڈیا پر جاری مہم عوام نے کھل کر سعودی آپریشن کی حمایت کی ہے۔

لبنانی وزیر انصاف اور فیوچر پارٹی کے رکن میجر جنرل اشرف ریفی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن اور اس کارروائی میں عرب ممالک کا ریاض کا ساتھ دینا ’دانش مندانہ‘ اقدام ہے۔ لبنانی حکومت کو بھی کھل کر سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیے۔

آپریشن شروع ہونے کے بعد لبنانی رکن پارلیمنٹ مروان حمادہ نے بیروت میں متعین سعودی سفیر علی عواض العسیری سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی جانب سے آپریشن میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں فوجی کارروائی کا خادم الحرمین الشریفین کا فیصلہ خطے بالخصوص عرب ممالک میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔