.

شامی باغیوں کو ترکی میں تربیت دینے کے لیے برطانیہ بھی پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے بعد اب برطانیہ نے بھی شام میں صدر بشارالاسد کےخلاف سرگرم اعتدال پسند باغیوں کو ترکی کی سرزمین پرعسکری تربیت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اعتدال پسند اپوزیشن کی عسکری ٹریننگ کا مقصد شام میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے بڑھتے خطرے کا تدارک کرنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک شامی باغیوں کو ترکی میں عسکری تربیت فراہم کرنے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں دولت اسلامی کے بڑھتے خطرے اور صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی انقلاب کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اعتدال پسند قوتوں کی معاونت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شام اور عراق میں ایک ایسی اعتدال پسند فوج تیار کرنا چاہتے ہیں کو دونوں ملکوں میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے داعش جیسے گروپوں کی سرکوبی کرسکے۔

برطانوی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ابتدائی طورپر ان کے 75 فوجی ماہرین عسکری تربیت کی مہم میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عسکری ماہرین عراق میں پہلے سے موجود ہیں جو عراقی فوج کی رہ نمائی کررہے ہیں۔