.

یمن اور سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کا تقابلی جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی شدت پسندوں کےخلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کے ساتھ ہی ریاض اور صنعاء کی دفاعی صلاحیتوں کے تقابلی جائزے کی ایک نئی بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی ایک رپورٹ میں دونوں ملکوں کی فضائی، بری اور بحری عسکری صلاحیتوں کا مختصرتقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یمنی فضائیہ کا آغاز سنہ 1990ء میں جنوبی اور شمالی یمن کے باہم متحد ہونے سے ہوا۔ یمنی فضائیہ میں اس وقت 80 ہزار باضابطہ فوج شامل ہے۔ اس کے علاوہ جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور جنگی تربیتی طیارے یمنی فضائیہ کا حصہ ہیں۔ ایک سابقہ روسی اخباری ذرائع کے مطابق یمن کے پاس کچھ مال بردار اور فوجیوں کی نقل مکانی کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر بھی فضائیہ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر یمن کے پاس 83 جنگی طیارے ہیں۔ ان میں 14 جنگی ہیلی کاپٹروں کے علاوہ 50 ہیلی کاپٹر فوجیوں کی منتقلی اور مال برداری کے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ 63 ہیلی کاپٹر تربیتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو یہ تمام معلومات ’’گلوبل فائر پاور‘‘ ویب سائیٹ سے ملی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی ’سی آئی اے‘ کی جانب سے جاری سالانہ ’’ورلڈ فیکٹ بک‘ میں یہی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔

یمن کے پاس اہم جنگی طیاروں میں روسی ساختہ ’’سوخوی سو22‘‘ اور ’’سوخوی 22،UM3‘‘ طیاروں کا نام لیا جاتا ہے۔ ان طیاروں کو ’’الریان‘‘ ، شبوہ گورنری میں ’’عتق ‘‘، ’’تغز‘‘، ’’العند‘‘اور ’’الحدید‘‘ فوجی اڈوں پر رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت

دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے یمن دنیا کا 79 واں ملک ہے جبکہ اس فہرست میں سعودی عرب کا نمبر 28 ہے۔ سعودی فضائیہ کےپاس 685 جنگی آلات ہیں، ان میں 155 جنگی طیارے، دو پروں والے 236 جنگی جہاز، 18 جنگی ہیلی کاپٹر، نقل وحمل کے لیے 187 طیارے، جنگی تربیت کے لیے 168 جہاز اور182 ہیلی کاپٹر،214 ہوائی اڈے اور جنگی طیاروں کے ’ٹیک آف‘ کے لیے ہنگامی ’رن ویز‘ شامل ہیں۔ جبکہ یمن کے پاس جنگی طیاروں کے لیے کل 57 رن وے ہیں۔

سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت میں ’’ایف 15 ایگل‘‘ اپنی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے جنگی طیارے برطانیہ اور امریکا جیسے بڑے ممالک کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت میں ’ریڑھ کی ہڈی‘ قرار دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کا اندازہ اس کے جنگی بحری بیڑے سے لگایا جاسکتا ہے ’’ایف 15 اسٹرائیک ایگل‘‘ نامی جنگی بحری بیڑا امریکا اور جاپان کے بعد سعودی عرب کے پاس ہے۔ یہ بحری بیڑا "یوروفائیٹر ٹایفون"، برطانوی ساختہ’’ٹورناڈو‘‘، پیشگی اطلاع دینے والے الیکٹرانک آلات، اپاچی ہیلی کاپٹروں اور مریکی ساختہ کیوا اور سیکورسکی ہیلی کاپٹروں سے لیس ہے۔

سعودی بحریہ کے پاس بھی غیرمعمولی صلاحیت کے حامل طیارے اور ہیلی کاپٹر ہیں۔ ان میں سرفہرست فرانسیسی ساختہ ہیلی کاپٹر’’یورکوپٹر‘‘ جدید ترین امریکی جنگی جہاز’’ نورتھروپ ایف 5‘‘ اور برطانوی ساختہ ’’ٹورناڈو‘‘ خاص طورپر شامل ہیں۔

بحری دفاع صلاحیت میں تقابل

سعودی عرب کی بحریہ کےاس سات بڑے اور چار چھوٹے بحری جنگی جہاز ہیں جنہیں ’’Corvette‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ نیوی کے پاس ہنگی حالات سے نمٹنے کے لیے 39 جنگی کشتیاں اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کی تین بھاری مشینیں بھی اس کا حصہ ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں یمنی بحریہ کے پاس کوئی 30جنگی آلات ہیں۔ ان میں سے بیشتر پرانے اور روسی ساختہ ہیں۔ ان میں دو ہلکی جنگی بحری جہاز، اکیس کشتیاں اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی تین مشینیں شامل ہیں۔

یمن کی بری افواج میں 67 ہزار اہلکاروں پر مشتمل مستقل فوج، 71 ہزار ریزور فوج جبکہ اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی مستقل فوج دو لاکھ 34 ہزار اور ریزرو فوج کی تعداد 25 ہزار ہے۔ یمن کی بری فوج کے پاس 1260 ٹینک، سعودی عرب کے پاس 1210، یمن کے پاس 3007 توپیں جبکہ سعودی عرب کے پاس 5472 توپیں، یمن کے پاس خود کار توپوں کی تعداد 25 جبکہ سعودی عرب کے پاس 524 ہے۔ سعودی عرب کے پاس توپوں کی منتقلی کے لیے 432 آٹلری ٹرالر اور 423 میزائل لانچنگ پیڈ ہیں۔ سعودی عرب اپنے دفاع پر سالانہ 56 ارب 725 ملین ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ یمن صرف ایک ارب 440 ملین ڈالر کی رقم دفاع پر خرچ کرپاتا ہے۔