.

'فیصلہ کن طوفان'، حوثیوں کے میزائلوں کی کھیپ تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سربراہی میں آپریشن 'فیصلہ کن طوفان' تیسرے روز بھی جاری ہے اور العربیہ نیوز کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اتحادی افواج نے صنعاء میں حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائلوں کی ایک بڑی کھیپ کو فضائی حملوں سے تباہ کردیا ہے۔

حوثیوں کے خلاف اس آپریشن کی سربراہی کرنے والے سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان نے ہفتے کو علی الصباح تین طیارے یمنی دارالحکومت صنعاء بھیجے تاکہ وہاں پر پھنسے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی مشن کو نکالا جاسکے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کو صںعاء سے ایتھوپیا منتقل کرنے کے لئے آنے والے جہازوں کو اترنے کا راستہ فراہم کیا جائے۔

مگر اس دوران اس انخلائی مشن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب حوثی ملیشیائوں نے یو این مشن کے دفاتر کا گھیرائو کرنے کے بعد مشن کے 140 افراد کو باہر نکلنے سے روک دیا۔

حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کے تیسرے روز بھی دارالحکومت صںعاء اور ملک کے دوسرے جنوبی علاقوں میں اتحادی طیاروں نے بمباری کی۔

عینی شاہدین کے مطابق جنوبی شہر دالیہ کے اوپر جنگی جہازوں کی پرواز کے دوران باغیوں نے ان پر اینٹی ائیرکرافٹ میزائلوں سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔

دیگر ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی پشت پناہی میں حوثی جنگجو تعز سے عدن کی جانب بڑھ رہے ہیں اور متحارب گروہوں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں جاری ہیں۔

حوثی ٹھکانوں پر بمباری

سعودی اور مصری جنگی جہازوں کو باب المندب کے مقام تعینات کردیا گیا تھا تاکہ یمن میں سٹریٹیجک اہمیت کے حامل سمندری راستے پر قبضہ کیا جائے اور ممکنہ زمینی آپریشن کی راہ ہموار کی جاسکے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں حوثی اور علی عبداللہ صالح کے حامیوں کو الاستقبال فوجی کیمپ میں نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتحادیوں کی بمباری کے نتیجے میں صنعاء کے شمال میں موجود ایک فوجی کیمپ ختم کردیا گیا ہے جو کہ صالح کے بیٹے احمد علی صالح کے زیر نگرانی کام کرتا تھا۔

فیصلہ کن طوفان کے تحت ہی جنوبی یمن میں کارروائیاں کی گئی ہیں جہاں حوثی اور ان کے اتحادی اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اتحادی کارروائیوں میں حوثیوں کے زیرقبضہ العناد فوجی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔