.

معاف کر دیں، حوثیوں کے خلاف لڑنے کو تیار ہوں: علی صالح

شہزادہ سلمان نے منصور ہادی کو یمن کا آئینی اور قانونی صدر تسلیم کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ایک صاحبزادے نے اپنے ملک میں سعودی عرب کے 'فیصلہ کن طوفان آپریشن سے دو دن قبل سعودی حکام سے رابطہ کیا اور انہیں پیش کش کی کہ اگر وہ حوثیوں کے خلاف ہو جائیں تو انہیں اور ان کے والد کو عام معافی دے دی جائے۔

العربیہ نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق تیس برس تک یمن میں بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والے علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی عبداللہ صالح نے ابتدائی ملاقات ریاض میں سعودی انٹلیجنس کے نائب سربراہ جنرل یوسف الادریس سے کی۔ اس کے بعد احمد علی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بیٹے اور وزیر دفاع شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی۔

ان ملاقاتوں میں صالح کے بیٹے سے اپنے والد اور خود اپنے لئے تحفظ کی درخواست کرتے ہوئے سابق صدر پر یو این کی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ علی عبداللہ صالح نے سنہ 2012ء میں ملک پر 33 برس حکومت کے بعد استعفی دیا تھا۔

علی صالح کے بیٹے نے اپنے مطالبات تسلیم ہونے پر یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے والد کے دفادار پانچ ہزار سپیشل سیکیورٹی فورس اور ایک لاکھ ریپبلیکن گارڈز کے ذریعے حوثیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں گے۔

'العربیہ' کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام نے اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ سلمان نے احمد علی صالح پر واضح کیا کہ ان کا ملک خلیجی فارمولے پر عمل کا پابند ہے، اسی کے تحت تمام یمنی فریقوں کی رضامندی سے علی عبدالللہ صالح کی اقتدار سے علاحدگی ممکن ہوئی۔

شہزادہ سلمان نے یہ بات زور دیکر کہی کہ عبد ربہ منصور ہادی یمن کے قانونی اور دستوری صدر ہیں۔ انہوں نے عدن میں عارضی دارلحکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کی۔