.

ایران مذاکرات:جوہری معاہدے میں تین رکاوٹیں حائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان سوئٹزر لینڈ کے شہر لاؤسین میں جوہری تنازعے پر مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود فریم ورک سمجھوتے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے اور ایک مغربی سفارت کار کے بہ قول طرفین کے درمیان تین بڑے ایشوز پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور انھیں ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں نے فریم ورک سمجھوتے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کررکھی ہے اور اس کے خاتمے میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے۔اس سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''اب ہاں اور نہیں کا وقت آن پہنچا ہے لیکن سمجھوتے کی راہ میں تین بڑی رکاوٹیں بدستور حائل ہیں اور وہ یہ ہیں:اس ڈیل کی مدت کتنی ہونی چاہیے۔دوم، ایران پر عاید اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خاتمے اور سوم، طرفین کے درمیان ڈیل کے اختتام اور پابندیوں کے دوبارہ اطلاق کو یقینی بنانے سے متعلق میکانزم وضع کرنے پر اختلافات پائے جارہے ہیں''۔

اس سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''اگر ہم ان ایشوز کو طے کرلیتے ہیں تو پھر ڈیل طے پاسکتی ہے۔اب ہاں یا نہیں کہنے کا وقت آگیا ہے اور معاہدے کے لیے حالات آج تین ماہ پہلے سے کہیں زیادہ سازگار ہیں''۔