.

ایران کا ذخیرہ شدہ یورینیم بیرون ملک بھجوانے سےانکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں افزودہ کیے گئے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک نہیں بھجوائے گا تاہم اس معاملے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کرکوئی اور حل نکالا جائے گا۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری تنازع پر عالمی طاقتوں سے مذاکراتی کمیٹی کے رکن عباس قراقجی نے سوئٹرزلینڈ کےشہر لوزان میں ایک بیان میں کہا کہ "ایران میں افزودہ کرنے کے بعد ذخیرہ کیے گئے یورینیم کو بیرون ملک بھجوانے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم عالمی برادری کی تشویش دور کرنے کے لیے اس مسئلے کے متبادل حل بھی ہیں۔ مسئلے کے متبادل پہلوئوں پر ہماری بات چیت ہوئی ہے اور ہم حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ ایران افزدہ کیے گئے یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا معاہدہ نہیں کرے گا۔"

عباس قراقجی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری تنازع پر عالمی طاقتوں سے مذاکرات اختتام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ بیشتر اہم معاملات طے پا گئے ہیں۔ صرف دو تین مسائل حل طلب رہتے ہیں۔ باقی ماندہ اختلافی مسائل پربھی کوئی درمیانی راہ نکالی جا رہی ہے۔

قبل ازیں عباس قراقجی ہی کا ایک دوسرا بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاملے پر بات چیت جاری ہے مگر حل طلب مسائل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ مغربی اور یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل جوہری نوعیت کے نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔

ایرانی مذاکرات کار کا کہنا تھا کہ بعض حل طلب معاملات پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے معاہدے تک نہیں پہنچ پائے ہیں تاہم اس معاملے کو میڈٰیا پر اچھالنے کے بجائے سنجیدگی سے بات چیت کا عمل آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔