.

سابق اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کیس میں قصور وار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس کی ایک عدالت نے سابق صہیونی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو کرپشن کے مقدمے میں قصوروار قرار دے دیا ہے۔ان پر ایک امریکی کاروباری شخصیت سے نوٹوں سے بھرے لفافے وصول کرنے کا الزام تھا۔

اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے مطابق ایہود اولمرٹ کو اس مقدمے میں 5 مئی کو سزا سنائی جائے گی۔انھیں پہلے بھی بدعنوانی کے ایک اور مقدمے میں چھے سال قید سزا سنائی جاچکی ہے۔انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اسرائیلی عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کررکھی ہے۔

اب ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل کو قصوروار قرار دیے جانے کے حکم کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ انہتر سالہ سابق وزیراعظم کو پہلے بدعنوانی اور فراڈ کے اس مقدمے میں برّی کردیا گیا تھا۔انھیں 2012ء میں انیس ہزار ڈالرز جرمانے اور اعتماد کو مجروح کرنے پر معطل قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

لیکن ان کے خلاف بدعنوانی کے ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت میں نئے شواہد پیش کیے تھے اور پراسیکیوٹرز نے ان پر دو مزید سنگین الزامات عاید کیے تھے۔

اولمرٹ کی سابق سیکریٹری اور قابل اعتماد ساتھی شعلہ ذاکن نے سزا میں کمی کے بدلے میں خفیہ ٹیپ ریکارڈنگز کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔اس میں انھیں اور اولمرٹ کوان ہزاروں ڈالرز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا تھا جو انھوں نے 2000ء کے عشرے کے اوائل میں تجارت اور صنعت کے وزیر کی حیثیت سے امریکا کی کاروباری شخصیت مورس ٹالانسکی سے وصول کیے تھے۔

عدالت نے انھیں گذشتہ سال مئی میں بدعنوانی کے مقدمے میں چھے سال قید کی سزا سنائی تھی۔کسی سابق اسرائیلی وزیراعظم کو اس طرح پہلی مرتبہ سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے 1993ء سے 2003ء کے درمیان یروشیلم (مقبوضہ بیت المقدس) کے میئر کی حیثیت سے شہر کے ہولی لینڈ کمپلیکس کی تعمیراتی منصوبے میں ڈویلپروں سے پانچ لاکھ ساٹھ ہزار شیکلز( ایک لاکھ ساٹھ ہزار ڈالرز) رشوت کے طور پر وصول کیے تھے۔ان کے خلاف دوسال تک یہ مقدمہ چلایا جاتا رہا تھا۔

اس تعمیراتی منصوبے کے دوران اسرائیلی عہدے داروں نے بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں کی تھیں اور رقوم خرد برد کرنے کے علاوہ ٹھیکے داروں سے بھی رشوت کے طور پر نقد رقوم وصول کی تھیں۔

واضح رہے کہ ایہود اولمرٹ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ہیں۔وہ 1973ء میں پہلی مرتبہ اسرائیلی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے اور 2006ء میں وزیراعظم بنے تھے لیکن انھیں ستمبر 2008ء میں اپنے خلاف عدالتوں میں کرپشن کے مقدمات زیر سماعت ہونے کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔تب سے پولیس نے ان کے خلاف مذکورہ الزامات کی تحقیقات شروع کررکھی ہے۔