.

عرب ممالک کی ’متحدہ فوج‘اہداف، ذمہ داریاں اور دائرہ اختیار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی میزبانی میں 28 مارچ کو منعقدہ عرب لیگ کے 26 ویں سربراہ اجلاس میں اہم ترین فیصلہ عرب ممالک کی متحدہ فوج کی تشکیل تھی، جس کا اعلان مصری صدر عبدالفتاح السیسی نےاجلاس کے اختتامی سیشن کے موقع پر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ فوج کی تشکیل کے لیے تمام عرب ممالک کی مسلح افواج کے سربراہان کا اجلاس ہوگا جس میں فوج کی تشکیل کا طریقہ کار اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب ممالک کے عسکری ماہرین نے متحدہ عرب فوج کی تشکیل کے حوالے سے اٹھنے والے بعض سوالات کی تفصیلات بتائیں ہیں۔ فوج کی تشکیل کا اعلان اپنی جگہ اہم مگر اس اعلان کے بعد کئی ایک سوالات سامنے آئے۔ مثلا فوج کی تشکیل کے بعد اس کی ذمہ داریوں کا تعین کیسے کیا جائے گا؟ فوج کی ماہیت اور ساخت کیسے ہوگی۔ اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور آیا متحدہ فوج کسی ملک میں کارروائی کے لیے عرب لیگ کے فیصلے سے حرکت میں آئے گی یا جس ملک میں کارروائی مقصود ہوگی اس ملک کےسربراہ کا مطالبہ ہی کافی ہوگا؟۔

مصری وزیر خارجہ سامح شکری کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب فوج کی تشکیل کا بنیادی اصول ایک مستقل فوج کو ہمہ وقت چوکس رکھنا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ عرب ممالک کی یہ فوج صرف عرب ملکوں کے اندرونی معاملات ہی پراپنی توجہ مرکوز رکھے گی۔ یہ ایک ایسے متحدہ فوج ہوگی جو عرب ممالک کے مفادات کے لیے کسی بھی وقت اور کہیں بھی کارروائی کی مجاز ہوگی۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعاطی کا کہنا ہے کہ متحدہ فوج عارضی نہیں بلکہ مستقل فورس کا درجہ رکھے گی۔ یہ فوج رضاکارانہ طورپر اپنی عرب ممالک کی منشاء کے مطابق ہی کسی جگہ کارروائی کر ے۔ فوجی کارروائی کا فیصلہ لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہوگا اور یہ فیصلہ تمام عرب ممالک صلاح مشورے سے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ فوج کی کمان ایک خود مختار ملک کی فوج کی کمان کے انداز میں تشکیل دی جائے گی جس کا ایک سربراہ ہوگا۔ فوج کا سینٹرل کمانڈ کا شعبہ ہوگا جو نہایت سرعت کے ساتھ کہیں بھی کارروائی کرسکے گی۔ اس فوج کا اصل مقصد تمام عرب ممالک کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا اور عرب دنیا میں موجود دہش گرد گروپوں سے نمٹنا بھی اس کی اہم ذمہ داری ہوگی۔

فوجی ڈھانچے کی تشکیل اور اس کی ترجیحات

مصر کی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ناجی شہود نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ عرب فوج کی ساخت اور اس کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ فوج کی تشکیل کے ساتھ ہی اس کی ذمہ داریوں اور اہداف کا تعین کیا جائے گا۔اہم ترین ذمہ داریوں میں عرب ممالک کا دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت، غیرملکی خطرات کا تدارک اور کسی بھی اندرونی اور بیرونی خطرے سے ہنگامی حالت میں نمٹنا شامل ہے۔

فوج کی تشکیل پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہوگی جس میں صرف پیشہ ور اور باصلاحیت افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ یہ فوج اپنی ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی متحدہ فوکی تشکیل کا ایک مقصد پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ عرب دنیا اپنے دفاع کے لیے ایک صف میں کھڑی ہے۔ تمام عرب ممالک اپنے مشترکہ مفادات کا دفاع ایک متحدہ فوج کے ذریعے کررہے ہیں اور کسی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک ایک چھتری تلے جمع ہیں۔ کسی ایک ملک کو درپیش خطرہ تمام عرب ممالک کا خظرہ سمجھا جائے گا۔

جنرل شہود کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب فوج میں وہ تمام شعبے موجود ہوں گے جو ایک ملک کی فوج میں ہونے چاہئیں۔ متحدہ فوج کا انٹیلی جنس کا شعبہ ہوگا۔ لڑاکا فوج، بری اور فضائی فورسز، نیوی کے دستے، لاجسٹک سپورٹس مہیا کرنے والی فورس شامل ہوگی جسے جدید ترین اسلحہ، راکٹوں، جنگی جہازوں ، میزائلوں اور انٹیلی جنس آلات سے لیس کیاجائے گا۔

جنرل ناجی شہود کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کی متحدہ فوج عرب لیگ کے رکن ممالک میں دہشت گردی میں سرگرم گروپوں کی سرکوبی کے لیے کام کرے گی۔ کسی بھی ملک کے کسی ایک حصے پر دہشت گرد گروپ کے تسلط کو ختم کرنے کے لیے متحدہ فوج کو کارروائی کا اختیاردیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے فوج کو عالمی معیار کی پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔ متحدہ فوج کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے اسے دنیا بھر میں قائم فوجی اتحادوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تاکہ یہ فوج عرب ممالک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔ متحدہ عرب فوج کسی مخصوص فرقے، مسلک، مذہب، علاقائی اور جغرافیائی تشخص کے بجائے صرف عرب ممالک کی قومی سلامتی کو مد نظر رکھے گی اور اسی اصول کے تحت اس فوج کی تربیت کی جائے گی۔

عملی طاقت کے استعمال کا قانونی دائرہ اختیار

عرب مالک کی متحدہ فوج کے قانونی دائرہ اختیار کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصری تجزیہ نگار اور عالمی قانون کے ماہر ڈاکٹر ایمن سلامہ کا کہنا تھا کہ متحدہ فوج کی تشکیل کے بعد اس کی آئینی ذمہ داریوں کے تعین میں عرب لیگ کے ممبر ممالک باہم صلاح مشورے سے فیصلہ کریں گے۔ متحدہ عرب فوج کا اپنا ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار وضع کیا جائے گا جس کے اندر رہتے ہوئے وہ کسی ملک، کسی علاقے، شہر یا دارالحکومت میں اپنی کارروائی کرے گی۔

متحدہ عرب فوج کے علاوہ کسی بھی ملک کو درپیش خطرے کے تناظرمیں دوسرے ملک اپنی ذاتی فوج کو استعمال کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں تاہم ایسا کرنا ان کی اپنی منشاء پر منحصر ہوگا کہ وہ متحدہ فوج کے ساتھ ساتھ اپنی فوج کو بھی کوئی ذمہ داری سونپنا مناسب سمجھتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب فوج اور عرب ممالک کے درمیان عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل رابطے کا ذریعہ ہوں گے۔ عرب لیگ ہی اس امر کا تعین کرے گی کہ آیا اسے کس ملک میں کس تنظیم کے خلاف اور کب کارروائی کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلامہ کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کی متحدہ فوج کی تشکیل کا فیصلہ عالمی قانون کی رو سے غلط نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل آرٹیکل 52 کے تحت اس کی اجازت دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے اصول کے تحت دنیا میں مختلف ممالک کا کوئی بھی بلاک اپنی داخلی سلامتی کی خاطر اس طرح کا فوجی اتحاد تشکیل دے سکتا ہے۔ اس طرح پر اب تک دنیا میں مختلف اتحاد وجود میں آچکے ہیں۔ ان میں افریقی الائنس کا قیام بھی شامل ہے۔ اس فوجی اتحاد کا مقصد مغربی افریقا میں ہونے والی خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی عرب ملک میں کارروائی متحدہ فوج از خود نہیں کرے گی بلکہ پہلے متعلقہ ملک کی جانب سے مدد کی درخواست کی جائے گی۔ اس کے عرب لیگ کےاجلاس میں اس درخواست کی نوعیت پرغور کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔