.

جنگ کے مبلغ نہیں، مگر دفاع سے غافل بھی نہیں ہیں: شہزادہ الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک کبھی کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کا حامی نہیں رہا اور لیکن جب جنگ مسلط کی جائے تو دفاع نا گزیر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کے مبلغ تو نہیں مگر اپنے دفاع سے کبھی غافل بھی نہیں رہے اور خود کو ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رکھا ہے۔

ان کا اشارہ یمن میں جاری حوثی شدت پسندوں کے بڑھتے خطرات کی جانب تھا جن کے خلاف ریاض حکومت نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر فضائی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ الفیصل کا کہنا تھا کہ یمن میں ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گا جب تک یمن میں آئینی حکومت کا مکمل کنٹرول قائم نہیں ہوجاتا اس وقت تک حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حوثی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح یمن کو تباہ کررہے ہیں۔

سعودی وزیرخارجہ نے شام کی صورت حال پربھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شامی عوام کی مشکلات شکست خوردہ لوگوں کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت اور پوری قوم شام میں انسانی بحران پرقابو پانے کے لیے عرب اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔