.

’’حوثیوں کی ایرانی امداد پرعالمی طاقتوں نے بے پروائی برتی‘‘

ایران کو ڈھیل دینے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے عالمی طاقتوں کو یمن کے حوثیوں سے بروقت نمٹنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کومعلوم تھا کہ ایران یمنی شدت پسند حوثیوں کی مدد کررہا ہے لیکن اس کے باوجود اس اہم معاملے پر ’’چشم پوشی‘‘ اختیار کی جاتی رہی۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات اور ممکنہ جوہری سمجوتا ایران کے مفاد میں ہوگا۔ لوزان میں طے پایا کوئی بھی سمجھوتا ایران کو یمن میں مداخلت کی سزا سے بھی بچا لے گا۔

نیتن یاھو نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوزان سمجھوتے سے یہ تاثرپیدا ہوتا ہے کہ جارحیت کے مرتکب کو قیمت چکانے کے بجائے الٹا اسے ہرجانا دیا جاتا ہے۔ عالمی طاقتوں نے جس طرح ایران کے جوہری پروگرام پر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح تہران کی جانب سے یمنی حوثٰیوں کی ہر ممکن امداد سے بھی پہلو تہی اختیار کیے رکھی۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اور ایران کے درمیان جوہری سمجھوتے کا سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہوگا۔ نیتن یاھو کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر عالمی برادری یمن میں حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر خاموش کیوں رہی ہے۔ اب جب ایران نواز حوثی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بننے لگے ہیں تو ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔