.

سابقہ گارڈ کا موریتانی خاتون سیاست دان کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک موریتانیہ کی تاریخ میں پہلی بار ایک عام شہری نے سابق خاتون وزیر اور ایک سرکردہ سیاسی جماعت کی سربراہ کے خلاف جرات اور بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت میں مقدمہ قائم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مدعی ابو صمب جالو’’یوتھ موومنٹ‘‘ نامی سیاسی جماعت کے سابق سیکیورٹی گارڈ ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی خاتون سربراہ لالہ منت اشریف پر الزام عاید کیا ہے کہ پارٹی میں بہ طور ایک محافظ کے ملازمت کے دوران انہوں نے میری تنخواہ ضبط کرلی تھی اور تنخواہ مانگنے پر نہایت ذلت آمیز انداز میں نوکری سے بھی نکال دیا تھا۔ جالو کا کہنا ہے کہ یوتھ موومنٹ کے ذمہ ان کے 03 لاکھ 57 ہزار’’اوقیہ‘‘ کی رقم واجب الاداء ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 1130 ڈالر کے برابر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں جب بھی اپنے واجبات مانگتا ہوں تو مجھے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ لہٰذا عدالت مجھے میرا حق دلوائے۔

ابو صمب جالو کا کہنا ہے کہ میں یوتھ موومنٹ کےقیام سے ہی اس جماعت کے ساتھ ایک عام کارکن کے طورپراور پھر ایک سیکیورٹی گارڈ کے طورپر وابستہ رہا ہوں لیکن پارٹی کی خاتون سربراہ میرے حقوق کا استحصال کرتی رہی ہے۔

سابق سیکیورٹی گارڈ کو دو وکلاء کی قانونی معاونت حاصل ہے تاہم دوسری جانب خاتون سیاس دان لالہ منت اشریف کی جانب سے اس کیس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ موریتانیہ کی یوتھ موومنٹ اس وقت حکومت کا حصہ ہے۔ اگرچہ حکومت میں شامل خالد ولد قیس اور لالہ منت اشریف کے درمیان بھی اقتدار کی رسا کشی جاری رہتی ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل عدالت نے حکومتی اتحاد میں شامل ایک دوسری جماعت’’کانگریس پارٹی‘‘ کے دفاتر پر پابندی عاید کرتے ہوئے جماعت کو سیاسی سرگرمیوں سے روک دیا تھا تاہم جماعت نے فیصلے کے خلاف اپیل کرکے دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔