.

''فیصلہ کن طوفان'':حوثیوں پر فضائی حملے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق جنوب مغرب میں واقع شہر ضالع میں حوثیوں کی دو فوجی تنصیبات کو سعودی اتحادیوں نے تباہ کردیا ہے۔ لڑاکا جیٹ طیاروں نے حوثی ملیشیا کے قائدین ،زمین سے فضا میں مار کرنے والی میزائل تنصیبات ، حوثیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کے اسلحے کے ڈپوؤں پر منگل اور بدھ کی درمیان شب بمباری کی ہے۔

اے ایف پی نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوبی شہر عدن کے شمال میں واقع علاقے دار سعد میں حوثیوں کے زیر قبضہ صوبائی انتظامیہ کے کمپلیکس کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔اس ذریعے کے بہ قول حملے میں حوثی شیعہ باغیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ان کے متعدد جنگجو زخمی ہوئے ہیں لیکن انھوں نے ان کی حتمی تعداد نہیں بتائی۔

عدن کے شمال میں سابق صدرعلی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کے ہیڈکوارٹرز اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی بمباری کی گئی ہے۔عدن ہی میں لڑائی کے دوران صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار ملیشیا نے چھبیس حوثی شیعہ باغیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔یہ بھی اطلاع سامنے آئی ہے کہ عدن اور اس کے نواحی علاقوں پر بمباری کے بعد حوثی شیعہ باغی وہاں سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔

میڈیکل ذرائع کے مطابق مغربی شہر حدیدہ میں رات ایک ڈیری پر بمباری کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ڈیری پر بمباری کس نے کی تھی۔بعض عینی شاہدین کے مطابق اتحادی طیاروں نے اس کو نشانہ بنایا تھا اور بعض سابق صدرعلی صالح کی وفادار فورسز کو حملے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

شمال مغربی شہر حجاح کے علاقے میدی پر ایک اور فضائی حملے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اتحادی طیاروں نے دارالحکومت صنعا میں سابق صدر علی صالح کے وفادار ری پبلکن گارڈ کے کیمپوں اور وسطی شہر ایب میں بھی ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔حجاح اور شمالی شہر صعدہ میں حوثی شیعہ باغیوں کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں دس اتحادی ممالک نے گذشتہ ہفتے سے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کررکھے ہیں۔سعودی وزیرخارجہ سعود الفیصل کا کہنا ہے کہ یمن میں استحکام اور حوثیوں کی بغاوت فرو ہونے تک یہ حملے جاری رکھے جائیں گے۔

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے حوثی شیعہ باغیوں کی دارالحکومت صنعا پر قبضے اور پھر جنوبی شہر عدن کی جانب چڑھائی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ملک کو مزید انتشار کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے فوجی مداخلت کی اپیل کی تھی۔انھوں نے اس ضمن میں سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا تھا۔

اس میں انھوں نے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ اکاون کا حوالہ دیا تھا جس میں مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کا حق دیا گیا ہے۔انھوں نے اسی دفعہ کے تحت عرب ممالک سے بھی مدد طلب کی تھی۔اس دوران وہ عدن کی جانب حوثی شیعہ باغیوں کی پیش قدمی کے بعد سعودی عرب چلے گئے تھے اور اب وہ وہیں سے اپنی حکومت چلا رہے ہیں۔ان کے وزیر خارجہ ریاض یاسین نے منگل کے روز عرب ممالک سے یمن میں برّی فوج داخل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔