.

استنبول: پولیس ہیڈکوارٹرز پر حملہ آور عورت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں پولیس نے ایک مسلح عورت کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے اور اس کے مبینہ ساتھی مرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان دونوں نے استنبول میں پولیس کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کی کوشش کی تھی۔ہلاک شدہ عورت بندوق اور دستی بموں سے مسلح تھی۔

مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے سرخ بالوں والی اس عورت کی خون میں لت پت لاش کی فوٹیج نشر کی ہے۔اس کے ساتھ ایک بندوق پڑی ہوئی ہے۔پولیس نے واقعے کے فوری بعد استنبول کے وسطی علاقے میں شاہراہِ وطن پر واقع ہیڈکوارٹرز کا محاصرہ کر لیا۔

استنبول کے گورنر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''شاہراہ وطن پر واقع استنبول پولیس کے ہیڈکوارٹرز پر بندوق سے فائرنگ کی گئی تھی اور جھڑپ میں ایک دہشت گرد عورت ہلاک ہوگئی ہے''۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس عورت کے پاس ایک بندوق ،ایک پستول اور دو دستی بم تھے۔مقامی میڈیا کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

استنبول میں بدھ کو مسلح دہشت گردوں کی اس کارروائی سے ایک روز قبل ہی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں نے ایک پراسیکیوٹر کو ان کے دفتر میں یرغمال بنا لیا تھا۔پولیس کی خصوصی فورس اس پراسیکیوٹر کو رہا کرانے کے لیے عدالت کے احاطے میں داخل ہوگئی تھی لیکن اس کی کارروائی کے دوران دونوں حملہ آور اور یرغمال پراسیکیوٹر ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس نے گذشتہ روز استنبول میں حکمران آق پارٹی کے دفتر میں داخل ہونے والے ایک مسلح شخص کو بھی گرفتار کیا ہے۔اس نے دفتر میں گھسنے کے بعد ایک کھڑکی سے ترکی کا ایسا پرچم لٹکا دیا تھا جس پر تلوار بنی ہوئی تھی۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان تینوں حملوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔تاہم ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے خبردار کیا ہے کہ جون میں ہونے والے قومی انتخابات سے قبل ملک میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے تشدد کے واقعات رو نما ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے استنبول میں پولیس کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے سے چند گھنٹے قبل نیوز کانفرنس میں کہا:''ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہمیں برائی کی قوتوں کا سامنا ہے اور انتخابات سے قبل ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے''۔تاہم انھوں نے ان برائی کی قوتوں کی شناخت نہیں کی ہے۔