.

اسرائیل کا امریکی مدد سے تیار کردہ میزائل ڈھال کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے امریکا کی مالی مدد اور شراکت سے تیار کیے جانے والے میزائل شکن دفاعی نظام کا تجربہ کیا ہے۔

اسرائیلی اور امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی نظام حالیہ متعدد تجربات کے دوران اپنے مقاصد اور پیرامیٹرز پر پورا اُترا ہے اور اس نے مخالف سمت سے فائر کیے گئے میزائلوں کو کامیابی سے روکا ہے۔ڈیوڈ سلنگ کے نام سے اس میزائل دفاعی نظام کو آیندہ سال نصب کردیا جائے گا۔

امریکی میزائل دفاعی ایجنسی کے ترجمان ریک لہنر نے کہا ہے کہ اس میزائل دفاعی نظام نے طویل فاصلے تک مار کرانے والے اسکڈ میزائلوں کو کامیابی سے مارگرایا ہے۔یہ میزائل شام اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر داغے جاسکتے ہیں۔

امریکا کی اس ایجنسی اور اسرائیل کی میزائل دفاعی تنظیم نے مل کر یہ میزائل شکن دفاعی نظام تیار کیا ہے اور انھوں نے اکٹھے یہ حالیہ تجربات گذشتہ ہفتے اور منگل کے روز کیے ہیں۔

اسرائیل نے اس میزائل دفاعی نظام کا ایسے وقت میں تجربہ کیا ہے جب سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے کے تصفیے کے لیے مذاکرات جاری ہیں مگر ان میں ابھی تک حتمی سمجھوتے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایران کے ساتھ امریکا اور دوسرے ممالک کے مجوزہ جوہری سمجھوتے کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے ایران سے مذاکرات پر سخت تنقید کی ہے جس کے بعد ان کے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری آچکی ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے اس کے باوجود ڈیوڈ سلنگ میزائل دفاعی نظام کو اسرائیل اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی دلیل قرار دیا ہے۔انھوں نے اسرائیل کے دورے پر آئے ہوئے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بوئنر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے میزائل شکن دفاعی نظام کی تیاری کے لیے رقوم مہیا کرنے پر امریکا کا شکریہ ادا کیا ہے۔