.

جی سی سی اور روس میں یمن بحران پر تندوتیز بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی عرب ممالک اور روس کے درمیان اقوام متحدہ میں یمن پر اسلحے کی درآمد پر پابندی سمیت دوسری قدغنیں عاید کرنے سے متعلق مجوزہ قرارداد پر تند وتیز بحث ہوئی ہے۔

اس مجوزہ قرارداد میں یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے تمام فریقوں پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر زوردیا گیا ہے۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن چھے ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور اردن سے اس مجوزہ قرارداد کے مسودے پر بات چیت کررہے ہیں۔

یہ قرارداد سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے یمن پر 26 مارچ کو فضائی حملوں کے آغاز کے بعد تیار کی گئی ہے۔سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر یہ فضائی مہم شروع کی تھی۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیو نکہ اس کا اقدام قانونی ہے اور اس نے یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی درخواست پر حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔

اس صورت حال میں جی سی سی سعودی عرب کے اقدام کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری نہیں چاہتی ہے لیکن وہ حوثیوں کے خلاف اسلحے سمیت دوسری پابندیاں لگوانا چاہتی ہے لیکن روس اس کی مخالفت کررہا ہے کیونکہ اس کے حوثیوں کے پشتی بان ایران کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔

سلامتی کونسل میں متعیّن ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ جی سی سی روس کو اس قرارداد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی غرض سے سخت کوششیں کررہی ہے۔قرارداد پر مذاکرات کے دوران روس نے اپنی بعض ترامیم پیش کی ہیں جس کے تحت صدر منصورہادی کی وفادار فورسز سمیت تمام فریقوں پر اسلحے کی پابندی عاید کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

روس نے تمام حوثیوں کے خلاف پابندیوں کی بھی مخالفت کی ہے اور یہ تجویز پیش کی ہے کہ باغی لیڈروں پر انفرادی حیثیت میں پابندیاں عاید کی جائیں۔ان پر بین الاقوامی سفری پابندیوں کے علاوہ بیرون ملک موجود ان کے اثاثے منجمد کرلیے جائیں۔اقوام متحدہ میں روسی مشن کے ترجمان ایلکسے زیتسیف نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مجوزہ قرارداد میں مسائل ہیں لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔

یمن میں جاری بحران کے حل کے حوالے سے ایسے وقت میں یہ بات چیت شروع کی گئی ہے جب اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت میں فضائی مہم میں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے تحت حقوق اطفال کے ادارے یونیسف کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران فضائی حملوں میں باسٹھ بچے مارے گئے ہیں جبکہ امدادی اداروں نے متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی میں پھنس جانے والے شہریوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر بھی بدھ کو نیویارک میں تھے اور انھوں نے وہاں اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ان کے حوالے سے یہ اطلاع آئی ہے کہ خلیجی عرب ممالک انھیں ہٹانے اور ان کی جگہ کسی اور منجھے ہوئے سفارت کار کو امن ایلچی مقرر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔تاہم اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا کہنا ہے کہ بن عمر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کی مکمل حمایت حاصل ہے۔