.

ایران جوہری سمجھوتے کے لیے مذاکرات طویل تر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزین میں مذاکرات جاری ہیں اور ان کے درمیان جوہری تنازعے کے حل کے لیے ابتدائی سمجھوتے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی سمجھوتا کامیابی اور ناکامی کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔

طرفین کے درمیان ایران کے جوہری تنازعے کے حل کے لیے سمجھوتے کے وسیع تر نکات پر تو کم وبیش اتفاق رائے ہوچکا ہے لیکن ان کے درمیان حساس نوعیت کے امور کے حوالے سے اختلافات پائے جارہے ہیں۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں نے پہلے سے طے شدہ ڈیڈلائن کے مطابق 31 مارچ تک فریم ورک سمجھوتے کو حتمی شکل دینا تھی لیکن ان میں عدم اتفاق کے بعد مذاکرات کو جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا اور انھوں نے لوزین میں جمعرات کی صبح تک بات چیت جاری رکھی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی خاتون ترجمان میری حرف نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ مذاکرات میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھے بجے (گرینچ معیاری وقت 0400 بجے) وقفہ کیا گیا ہے اور چند گھنٹے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔

جان کیری اور جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات تک ہی مذاکرات میں شریک رہیں گے تاکہ کوئی سیاسی سمجھوتا طے پاجائے گا۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ واپس چلے جائیں گے۔فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس بھی ایک روز قبل مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد واپس پیرس چلے گئے تھے لیکن وہ دوبارہ لوزین آگئے ہیں۔

انھوں نے اپنی واپسی پر کہا ہے کہ ''ہم لائن عبور کرنے سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر ہیں لیکن یہ آخری قدم ہی ہمیشہ سب سے مشکل ہوتے ہیں۔ہم اس لائن کو عبور کرنے کی کوششں کریں گے۔ہم جلد اور قابل تصدیق سمجھوتا چاہتے ہیں لیکن ابھی بہت سے نکات ایسے ہیں جن کے حوالے سے ایرانیوں کو پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے''۔

بات چیت میں شریک ایک سفارت کار کا بدھ کی رات کہنا تھا کہ ڈیل کا آیندہ چند گھنٹوں میں اعلان کیا جاسکتا ہے لیکن ابھی تک اس پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔مذاکرات میں رات بھر وزراء اور ماہرین باری باری شریک رہے ہیں لیکن تمام وزراء کا بیک وقت اجلاس نہیں ہوا تھا۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے صبح کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ '' ہم آگے بڑھ رہے ہیں''۔ وہ حیران کن طور پر ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دوسرے فریق کے سیاسی عزم پر ہے اور یہ ایک ایسا ایشو ہے جس کے حوالے سے انھیں ہمیشہ مسئلہ لاحق رہا ہے''۔

ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا ،روس ،فرانس ،برطانیہ اور چین اور جرمنی کے مذاکرات میں شریک نمائندے یہ تو کہہ رہے کہ وہ سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر تعطل کو دور کرنے والی مؤثر تجاویز پیش نہ کرنے کے الزامات بھی عاید کررہے ہیں اور ہر فریق دوسرے سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ وہی مزید اقدامات کرے۔

طرفین اب مذاکرات کی میز سے خالی ہاتھ لوٹنا بھی نہیں چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ان پر دباؤ ہے کہ وہ جلد سے جلد فریم ؛ورک سمجھوتا طے کریں لیکن امریکا نے بدھ کو اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اگر ان کے درمیان ابتدائی فریم ورک سمجھوتے پر اتفاق رائے نہیں ہوتا ہے تو وہ مذاکرات سے اٹھ آئے گا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اب ایران کے لیے کچھ فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے''۔

ایک مغربی سفارت کار کے بہ قول طرفین کے درمیان تین بڑے ایشوز پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور انھیں ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ان میں ایک یہ کہ اس اس ڈیل کی مدت کتنی ہونی چاہیے۔ایران کو سینٹری فیوجز کی تحقیق کا حق دینے پر اتفاق رائے ہوسکا ہے اور نہ اس نکتے پر کہ اگر ایران جون میں طے پانے والے حتمی سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر دوبارہ اقوام متحدہ کی پابندیاں کیسے عاید کی جائیں گی۔اس سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''طرفین کے درمیان ڈیل کے اختتام اور پابندیوں کے دوبارہ اطلاق کو یقینی بنانے سے متعلق میکانزم وضع کرنے پر اختلافات طے نہیں کیے جاسکے ہیں''۔