.

یمن:القاعدہ کا جیل پر حملہ،300 قیدی فرار

حوثی باغیوں کی جنوبی شہر عدن پر قبضے کے لیے پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضرموت میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے ایک جیل پر حملہ کرکے سیکڑوں قیدیوں کو چھڑوا لیا ہے۔ان میں ان کا لیڈر خالد باطرفی بھی شامل ہے۔

یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں کے جمعرات کو حضرموت کے شہر المکلا میں واقع جیل پر راکٹ گرینیڈوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس کے بعد تین سو سے زیادہ قیدی فرار ہوگئے ہیں۔ان میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے متعدد ارکان بھی شامل ہیں۔القاعدہ کے سینیر رہ نما خالد باطرفی سنہ 2011ء سے اس جیل میں قید تھے۔وہ گرفتاری سے قبل جنوبی صوبے ابین میں القاعدہ تنظیم کے سربراہ تھے۔

ادھر جنوبی شہر یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے اور حوثی باغی عدن کے وسط تک پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کے باوجود یہ پیش قدمی کی ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں نے بدھ کو عدن کے علاقے خور مکسر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد وہ صدارتی محل کی جانب بڑھ رہے تھے۔خور مکسر میں متعدد ممالک کے قونصل خانے اور اقوام متحدہ کے دفاتر قائم ہیں۔

یمنی حکام کے مطابق حوثی باغیوں کی مقامی ملیشیا اور مسلح مکینوں کے ساتھ جھڑپوں میں انیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اس دوران سعودی طیاروں نے حوثی باغیوں پر بمباری بھی کی ہے۔گذشتہ ہفتے عدن کی جانب حوثیوں کی چڑھائی صدر عبد ربہ منصور ہادی بیرون ملک چلے گئے تھے اور اس وقت وہ سعودی دارالحکومت الریاض میں مقیم ہیں اور وہیں سے اپنی حکومت چلا رہے ہیں۔