.

ایران پر پابندیوں کا خاتمہ ؟ ابھی سمجھوتا نہیں ہوا:فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک سمجھوتے کے غبارے سے یہ کہہ کر ہوا نکال دی ہے کہ ابھی تو ایران پرعاید بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق نظام الاوقات کا ایشو حل نہیں ہوا ہے۔

لوراں فابیئس نے جمعہ کو یورپ 1 ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ایرانی فوری طور پر پابندیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہم اس وقت آپ پر عاید پابندیاں ختم کریں گے جب آپ متفقہ سمجھوتے کا احترام کریں گے۔اگر آپ اپنے وعدوں پر پورا نہیں اترتے تو یقیناً ہم بھی پہلے والی صورت حال کو لوٹ سکتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ابھی تک تو اس حوالے سے کوئی ڈیل طے نہیں پائی ہے''۔فرانسیسی وزیرخارجہ نے ایک قسم کا یہ وضاحتی بیان جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان آٹھ روز تک جوہری تنازعے پر مذاکرات کے بعد فریم ورک سمجھوتے پر اتفاق رائے کے بعد جاری کیا ہے۔وہ خود بھی ان مذاکرات میں شریک رہے ہیں۔

امریکا اور ایران نے اس فریم ورک سمجھوتے کو تاریخی قرار دیا ہے۔اس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے اتفاق کیا ہے۔اس کے بدلے میں اس پر عاید اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔گذشتہ دہائی میں ان قدغنوں کے نفاذ کے بعد سے ایران کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔

فرانس نے ایران کے ساتھ چھے بڑی طاقتوں کے جوہری تنازعے پر مذاکرات کے دوران سخت رویہ اختیار کیے رکھا ہے اور اس نے خبردار کیا ہے اگر ایران مذاکرات کی میز پر کیے گئے وعدوں سے منحرف ہوگیا تو اس پر دوبارہ پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

لوراں فابیئس نے ریڈیو یورپ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ''ہم درست میں چل رہے ہیں لیکن ابھی ہم شاہراہ کے آخری کنارے پر نہیں پہنچے ہیں''۔

درایں اثناء ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان فریم ورک سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل حتمی معاہدہ طے کرلے گا۔

انھوں نے لیتھوینیا کے دورے کے موقع پر کہا کہ''جب ہم پانچ جمع ایک (سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی ) کے موقف کی جانب دیکھتے ہیں تو ہمیں ایران اب بھی لکیر کے نیچے نظر آتا ہے لیکن ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ایران اس لکیر کو عبور کرلے گا''۔

دوسری جانب ایران کے حریف ملک اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے فریم ورک سمجھوتے کی مخالفت کی ہے اور ایران کے ساتھ ڈیل کو خطرناک قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فریم ورک سمجھوتا بہت ہی خطرناک سمت کی جانب قدم ہے۔اس معاہدے کے پردے میں ایران کا واحد مقصد جوہری بم تیار کرنا ہے''۔مگر ایران ماضی میں ہر پلیٹ فارم پر اسرائیل اور مغربی ممالک کے اس دعوے کی تردید کرچکا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔