.

ترکی کی حوثی مخالف مہم کے لیے مدد کی پیش کش

سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف صرف سیاسی حمایت کا تقاضا کیا ہے:وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک یمن میں جاری بحران کا سیاسی حل چاہتا ہے لیکن اس نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فضائی مہم کے لیے مدد کی پیش کش کی ہے۔

کاوس اوغلو نے لیتھوینیا کے دورے کے موقع پر جمعہ کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''ترکی نے سعودی عرب کی قیادت میں آپریشن کے لیے لاجسٹیک مدد کی پیش کش کی ہے اور ہم سراغرسانی میں مدد بھی کرسکتے ہیں لیکن ہم یمن میں جاری بحران کا سیاسی حل چاہتے ہیں''۔

واضح رہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل ممالک میں ترکی کی دوسری بڑی فوج ہے۔اس نے ابھی تک سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف گذشتہ ہفتے سے جاری آپریشن فیصلہ طوفان میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کیا ہے۔

کاوس اوغلو کا کہنا ہے کہ ترکی سے ابھی تک سعودی عرب کی سیاسی حمایت کے سوا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے لیکن انھوں نے حوثی شیعہ ملیشیا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ''حوثی یمن میں جو کچھ کررہے ہیں،وہ ناقابل قبول ہے۔اس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے''۔

حوثی باغیوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر گذشتہ سال ستمبر سے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کررکھا ہے۔اس کے بعد انھوں نے یمن کے جنوبی شہر عدن اور دوسرے شہروں کی جانب بھی چڑھ دوڑے تھے۔ان کی اس توسیع پسندانہ یلغار کے بعد سعودی عرب نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی درخواست پر یمن میں حوثیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

ترکی کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت میں اس مہم کے لیے زبانی حمایت سے اس کے ایران کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔گذشتہ ہفتے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایران پر مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حوثیوں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔

ایران حوثیوں کی یمن کی مجاز صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف مہم کی تو حمایت کرتا ہے لیکن وہ حوثیوں کو فوجی امداد دینے یا وہاں اپنے فوجی بھیجنے کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔ایران نے صدر ایردوآن کے بیان پر تہران میں متعیّن ترک سفیر کو طلب کیا تھا اور ان سے اس بیان پر احتجاج کیا تھا۔رجب طیب ایردوآن ترکی کی جانب سے ایران مخالف ان بیانات کے باوجود آیندہ ہفتے تہران کا دورہ کرنے والے ہیں۔