.

شام میں کلورین گیس کا استعمال،تحقیقات کا آغاز نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے لیے کام کرنے والی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کی سربراہ اینجیلا کین نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے شام میں کلورین گیس کے حملوں سے متعلق حالیہ الزامات کی ابھی تحقیقات شروع نہیں کی ہیں۔

او پی سی ڈبلیو نے مارچ کے آخر میں شام کے شمال مغربی علاقوں میں کلورین گیس کے حملوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے بھی اس ادارے سے کلورین گیس کے کیمیائی ہتھیار کے طور پر استعمال سے متعلق الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اینجیلا کین نے اس سلسلے میں جمعرات کو سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ دی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے ادارے نے ابھی اپنی تحقیقات کا آغاز نہیں کیا ہے۔اجلاس کے بعد کونسل کی صدر اردنی سفیر دینا کوار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بیشتر رکن ممالک نے حالیہ ہفتوں کے دوران شامی حزب اختلاف اور انسانی کارکنان کی جانب سے جاری کردہ ان رپورٹس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شمال مغربی صوبے ادلب مں کلورین گیس پر مشتمل بم گرائے تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ میں شام میں کلورین گیس کے استعمال کے خلاف امریکا کی جانب سے پیش کردہ مذمتی قرار داد منظور کی تھی اور مستقبل میں کیمیائی حملوں کی صورت میں شام کے خلاف پابندیوں اور فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔اس قرارداد میں شام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے تحقیقاتی مشن کے ساتھ تعاون کرے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ادلب کے ایک گاؤں سرمین میں زہریلی گیس کے حملے میں تین کم سن بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شامی فوج نے اس گاؤں پر ایک بیرل بم گرایا تھا اور مقامی ڈاکٹروں کے بہ قول اس سے ممکنہ طور پر کلورین گیس کا اخراج ہوا تھا جس سے ان افراد کی اموات ہوئی تھیں۔

شامی کارکنان ماضی میں بھی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر شہری علاقوں میں کلورین گیس کے استعمال کا الزام عاید کرچکے ہیں۔شامی حزب اختلاف کے سربراہ خالد خوجہ نے اس حملے کی مذمت کی تھی اور ٹویٹر پر لکھا تھا کہ نفسیاتی مریض آمر بشارالاسد نے کیمیاوی حملوں کے ذریعے شہریوں کی ہلاکتوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں بشارالاسد کی فوج پر حزب اختلاف اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں متعدد مرتبہ بیرل بم گرانے کے الزامات بھی عاید کرچکی ہیں۔حالیہ مہینوں کے دوران شام کے شمالی علاقوں میں دھماکا خیز مواد سے بھرے ہوئے یہ ڈرم ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گرائے گئے ہیں۔