.

عدن:حوثی باغی بمباری کے بعد صدارتی محل سے پسپا

سعودی عرب کی قیادت میں لڑاکا طیاروں کے عدن اور حدیدہ پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغی اور ان کے اتحادی جنگجو جنوبی شہر عدن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی بمباری کے بعد صدارتی محل سے پسپا ہوگئے ہیں۔

حوثی باغیوں نے جمعرات کو صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفادار حامیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد پہاڑی پر واقع اس صدارتی محل پر قبضہ کر لیا تھا۔عدن سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں نے جمعہ کو علی الصباح قصر المعاشیق کو خالی کردیا ہے''۔

قبل ازیں جمعرات کو سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا تھا کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا عارضی دارالحکومت عدن اب مستحکم ہے اور وہاں حوثی شیعہ باغی اور ان کی اتحادی فورسز کسی بھی سرکاری عمارت پر قبضہ نہیں کرسکی ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈئیر جنرل احمد عسیری نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ عدن کے دو حصوں میں حوثی باغیوں اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے وفاداروں کی مقامی مسلح گروپوں کے ساتھ لڑائی ہورہی ہے اور آپریشن ''فیصلہ کن طوفان'' کی مرکزی کمان مقامی لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ فضائی مہم کا مقصد یمن کے ڈھانچے کو تباہ کرنا نہیں بلکہ حوثی شیعہ باغیوں تک پہنچنے والی کمک کو روکنا ہے۔سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کی شب عدن کے علاوہ یمن کے چوتھے بڑے شہر حدیدہ کے مختلف علاقوں پر بمباری کی تھی۔اس شہر میں زمین سے فضا میں مار کرانے والے میزائل کے لانچرز نصب کیے گئے تھے۔