.

لوزین معاہدہ مردہ پیدا ہونے والا بچہ ہے: مشیر خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر خاص حسین شریعتمداری کا کہنا ہے کہ ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری امور سے متعلق لوزین میں طے پانے والا سیاسی فریم ورک 'مردہ پیدا ہونے والا بچہ' ہے۔

'فارس' نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے شریعتمداری کا کہنا تھا کہ "طے پانے والے فریم ورک کی مثال ایسی گروہ کی ہے کہ جس نے گھوڑا کسی اور کے حوالے کر دیا ہو اور خود لگام تھام کر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہوں۔" ان کا اشارہ ایران کی جانب تھا کہ جس نے شریعتمداری کے بقول جوہری معاہدے کے فریم ورک میں تمام مغربی مطالبات تسلیم کر لئے ہیں اور تہران کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔"

اسی پس منظر میں ایرانی مجلس شوری کے ارکان اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کے ترجمان ویب پورٹلز نے بھی جوہری معاہدے کے 'فریم ورک' پر کڑی تنقید کی ہے۔ دس برس کی مدت پر محیط اس معاہدے کے بموجب تہران یورنیم افزودگی کے پلانٹس کی تعداد انیس ہزار سے کم کر کے چھے ہزار کرنے کا پابند ہے۔
مغرب کا فائدہ

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی اور فارن پالیسی کمیٹی کے نائب چیئرمین منصور حقیقت بور کے بقول جوہری معاہدے کے ابتدائی فریم ورک میں ایران کے مقابلے میں مغرب نے زیادہ حاصل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ اور نیوکلیئر مذاکراتی ٹیم نے مجلس شوری کے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے کیونکہ کسی بھی اضافی پروٹوکول پر دستخط ایرانی پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہیں جبکہ مسٹر ظریف نے یکطرفہ طور پر تصرف کیا ہے۔ مجلس شوری اپنے اگلے اجلاس میں بلا شبہ ان سے معاملے پر جواب طلب کرے گی۔

فریم ورک معاہدے کے مطابق ایران رضاکارانہ طور پر ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاٶ کے معاہدے سے متعلق پروٹوکول پر دستخط کا پابند ہو گا۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے بھی اس امر کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے صدر محمد خاتمی کے دور میں ایران نے ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاٶ کے معاہدے پر دستخط کئے تھے، تاہم پارلیمنٹ نے اس کی توثیق نہیں کی تھی۔ فریم ورک کے مطابق جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی [آئی اے ای اے] ایران کی ایٹمی تنصیبات کا جب اور جہاں چاہئے معائنہ کر سکتی ہے۔