روس پر یو این میں عرب قرارداد ناکام بنانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی کا کہنا ہے کہ روس، عالمی ادارے میں یمن سے متعلق عرب ملکوں کے منصوبے کو ناکامی سے دوچار کرنے کا سامان پیدا کر رہا ہے۔

سفارتکاروں کے مطابق روس نے ہفتے کے روز ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں یمن کے اندر انسانی بنیادوں پر فائر بندی کی اپیل کی گئی ہے۔

سیکیورٹی کونسل نے یمن میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کی صدر نشین اور اردن کی مستقل مندوب دینا قعوار کا کہنا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک یمن کی سیاسی صورتحال سے متعلق ایک قرارداد لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کونسل اس سلسلے میں کسی اتفاق رائے پر پہنچنا چاہتی ہے۔

ادھر نیویارک سے 'العربیہ' کے نمائندے نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ روس کی جانب سے ایک صفحے پر مشتمل قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیصلہ کن آپریشن کے تحت یمن میں فضائی حملے بند کئے جائیں تاکہ غیر ملکیوں کا انخلاء مکمل ہو سکے اور فوری و ضروری انسانی امداد علاقے میں پہنچائی جا سکے۔ قرارداد میں روس کی تجویز کردہ فائر بندی کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی اس میں حوثیوں سے کوئی مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں متحارب حوثیوں سے زیر قبضہ شہر واپسی اور مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

جمعہ کی شب یو این میں موجود متعدد سفارتکاروں نے بتایا کہ ماسکو نے اپنی قرارداد پر بحث کے لئے فوری طور پر سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ یو این میں روسی مشن کے مطابق انہوں نے مشورے کے لئے پندرہ رکنی عالمی فورم کے بند کمرے کا اجلاس بلانے کے لئے کہا تاکہ عرب اتحادیوں کے یمن میں فضائی حملوں کو انسانی بنیاد پر روکنے پر غور کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں