.

یمن کے ساتھ سرحد پرمزید دو سعودی فوجی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی یمن کے ساتھ واقع سرحد پر جھڑپ کے دوران مزید دو فوجی جاں بحق ہوگئے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''ان دونوں فوجیوں نے اسیر کے علاقے میں ایک سرحدی گذرگاہ پر جام شہادت نوش کیا ہے۔ان پر یمن کے سرحدی پہاڑی علاقے کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی تھی۔اس فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے اور زمینی فوج کی کارروائی کے بعد اب صورت حال کنٹرول میں ہے''۔

اس واقعے سے ایک روز قبل جمعہ کووزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ یمن کے سرحدی علاقے کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی جاں بحق ہوگیا ہے۔26 مارچ کو سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم کے آغاز کے بعد سعوی فوجی کی یہ پہلی ہلاکت تھی۔

قبل ازیں جمعہ کو سرحدی علاقے میں تعینات ایک فوجی غلطی سے گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا تھا۔متوفی کے والد عبداللہ السائری کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے متعب السائری کی ناگہانی پر موت پر اگرچہ بہت افسردہ ہیں لیکن انھیں فخر ہے کہ ان کے بیٹے نے ملک کا دفاع کرتے ہوئے جان قربان کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک پوتا اور ایک پوتی ہے۔متوفی نے جمعرات کی شب اپنے والد کو فون کیا تھا اور انھیں بتایا تھا کہ اس کی صحت بہتر ہے۔یہ اس کی اپنے والد سے آخری فون کال تھی۔

یمن میں حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب کے ایک سو لڑاکا طیارے حصہ لے رہے ہیں۔اس نے قریباً ڈیڑھ لاکھ فوجی سرحدی علاقوں میں تعینات کیے ہیں لیکن اس کا اپنی زمینی فوج یمن میں داخل کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔