.

سعودی وزراء کی شہداء کے خاندانوں سے ملاقات

شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ مقرن کی جانب سے خاندانوں کو پُرسہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن کے ساتھ سرحد پر تشدد کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے۔

دونوں وزراء ابھا شہر میں سوگوار خاندانوں سے ملنے کے گئے تھے۔اس موقع پر صوبہ عسیر کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد نے ان کا خیرمقدم کیا۔انھوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کی جانب سے سوگواروں خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران عسیر کے علاقے میں یمن کی جانب سے شدید گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے چار ارکان شہید ہوگئے ہیں۔

بیان کے مطابق ان میں سے دو فوجیوں نے ہفتے کے روز عسیر کے علاقے میں ایک سرحدی گذرگاہ پر جام شہادت نوش کیا تھا۔ان پر یمن کے سرحدی پہاڑی علاقے کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی تھی۔سعودی فورسز نے اس فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔اس واقعے سے ایک روز قبل جمعہ کووزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ یمن کے سرحدی علاقے کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی جاں بحق ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ نائب ولی عہد شہزادہ نایف اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں آپریشن ''فیصلہ کن طوفان'' کے نام سے فوجی مہم کی نگرانی کررہے ہیں۔اس فوجی مہم میں نو دیگر علاقائی ممالک شریک ہیں۔

یمن میں حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف 26 مارچ سے جاری فضائی مہم میں سعودی عرب کے ایک سو لڑاکا طیارے حصہ لے رہے ہیں۔اس نے قریباً ڈیڑھ لاکھ فوجی سرحدی علاقوں میں تعینات کیے ہیں لیکن اس کا اپنی زمینی فوج یمن میں داخل کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔