.

مآرب کے 35 ہزار قبائلی جنگجو حوثیوں کے خلاف برسر پیکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کے ساتھ ساتھ مقامی قبائل نے بھی حوثیوں اور سابق صدر علی صالح کے وفاداروں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی مآرب گورنری کے قبائل نے 35 ہزار جنگجوئوں کا ایک بڑا لشکر تیار کیا ہے جو حوثیوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کے دوران جنگی طیاروں نے صنعاء، صعدہ، عدن، الحدیدہ اور تعز کے بعض مقامات پر حوثی شدت پسندوں اور علی صالح کے حامیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، جن میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج کی بمباری کے دوران مآرب کے قبائلی لشکر نے شہر کو متعدد اطراف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔ قبائیلی جنگجوئوں کے میدان میں اترتے ہی مآرب میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ قبائلی لشکر نے باغیوں کو تیل کے وسائل پر قبضے سے روکنے کے لیے بھرپور حملے بھی کیے ہیں۔

ادھر مآرب کے گورنر سلطان العرادہ نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے نمائندہ نہیں بلکہ صدر عبد ربہ منصور ھادی کے نمائندہ ہیں اور ان کی حکومت کی بحالی کے لیے حوثیوں کے خلاف بھرپور جنگ کریں گے۔

مآرب کی سرحد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حوثی شدت پسندوں اور قبائلی جنگجوئوں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئیں ہیں۔ مآرب کی سیکیورٹی فورسز نے حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے بھرپور تیار کی ہے۔