.

''فیصلہ کن طوفان'' یمن کی مدد کے لیے ہے: سعودی کابینہ

ایران اور چھے بڑی طاقتوں میں طے پائے فریم ورک سمجھوتے کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ آپریشن فیصلہ کن طوفان یمن ،اس کے عوام اور مجاز قیادت کی مدد کے لیے شروع کیا گیا تھا۔انھوں نے اپنی سلامتی ،قومی اتحاد کے تحفظ ،آزادی ،خود مختاری اور علاقائی دفاع کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔

دارالحکومت الریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت سوموار کو سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف آپریشن فیصلہ کن طوفان کے حوالے سے غور کیا گیا۔کابینہ کے اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی جانب سے مدد کی اپیل پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کو دفاع کا حق حاصل ہوگیا تھا اور خود سعودی عرب نے جنگ کی بات نہیں کی تھی۔

کابینہ نے سعودی مملکت میں یمنی کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا ہے جس نے بیان کے مطابق یمن میں فوجی مہم کی حمایت کی ہے اور اس کو سرا؛ہا ہے۔کابینہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک پلس جرمنی اور ایران کے درمیان طے پائے فریم ورک سمجھوتے کے حوالے سے بھی غور کیا گیا ہے۔

سعودی کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ طرفین کے درمیان حتمی معاہدے سے خطے میں سلامتی اور امن کو فروغ ملے گا۔کابینہ نے ایران کے جوہری تنازعے کے پُرامن حل کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

تاہم کابینہ نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں سکیورٹی کو مضبوط بنانے اور استحکام کے لیے اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور عرب ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے اور ان کی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔