.

ترکی اورایران میں یمنی بحران پراختلافات برقرار

دونوں ملکوں کے صدور کا دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے ایرانی ہم منصب حسن روحانی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ سے اتفاق کیا ہے۔ایرانی صدر کے بہ قول انھوں نے یمن میں جاری جنگ کے خاتمےکی ضرورت سے بھی اتفاق کیا ہے۔البتہ ان کے درمیان یمنی بحران پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

صدر ایردوآن نے منگل کو تہران کے ایک روزہ دورے کے موقع پر صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ سیاسی وتجارتی تعلقات ،یمن ،شام اور عراق کی صورت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔بعد میں انھوں نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کیا ہے مگر دونوں نے یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی ہے۔

طیب ایردوآن نے کہا کہ ''میں کسی فرقے کی جانب نہیں دیکھتا،مجھے شیعہ یا سنی ہونے پر بھی کوئی تشویش نہیں ہوتی بلکہ میرے لیے توجہ کا مرکز مسلم ہیں۔ہمیں اس خونریزی اور ان ہلاکتوں کو روکنا ہوگا''۔

اس موقع پر صدر حسن روحانی نے کہا کہ ''ہم دونوں اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ یمن سمیت پورے خطے میں جلد سے جلد جنگ اور خونریزی کا خاتمہ ہونا چاہیے''۔انھوں نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت حوثیوں کے خلاف فضائی حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بحران کا بات چیت کے ذریعے حل نکالا جانا چاہیے۔تاہم ترک صدر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران یمن بحران کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات پر اظہار خیال کیا۔

ترک صدر نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم کی حمایت کی ہے جبکہ ایران حوثیوں کی امداد کررہا ہے۔شام میں بھی دونوں ممالک متحارب فریقوں کی حمایت کررہے ہیں۔ایران صدر بشارالاسد کا حامی ہے اور ترکی شامی باغیوں کا ہم نوا ہے۔

گذشتہ ماہ رجب طیب ایردوآن نے ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں بالادستی کی کوشش کررہا ہے۔انھوں نے ایران پر زوردیا تھا کہ وہ یمن ،شام اور عراق میں مداخلت کا سلسلہ بند کردے۔اس پر تہران میں متعیّن ترک سفیر کو وضاحت کے لیے ایرانی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا۔ان کے اس بیان پر بعض ایرانی ارکان پارلیمان نے ان کا دورہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ایک ایرانی سیاست دان کا کہنا تھا کہ ترک صدر خلافتِ عثمانیہ کا احیاء چاہتے ہیں۔

تجارتی تعلقات

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ شام اور یمن میں جاری بحران پر اختلافات کے باوجود دونوں ملکوں کا تجارت کے شعبے میں ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ترکی کو ایران سے گیس درکار ہے جبکہ عالمی پابندیوں کے شکار ایران کو اپنی برآمدات کے لیے بیرونی منڈیوں کی ضرورت ہے۔

دونوں صدور نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے آٹھ سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔دونوں ملکوں باہمی تجارت کے حجم کو تیس ارب ڈالرز تک بڑھانا چاہتے ہیں۔گذشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم چودہ ارب ڈالرز تھا۔انقرہ اور تہران کے درمیان قدرتی گیس کی قیمت پر بھی تنازعہ پایا جاتا ہے۔

ترکی ایران سے سالانہ دس ارب مکعب میٹر گیس درآمد کرتا ہے۔اس نے 2012ء میں ایران کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں قائم بین الاقوامی ایوان تجارت میں مقدمہ دائر کردیا تھا جس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایران نے اس کی جانب سے گیس کی بہت زیادہ قیمت پر نظرثانی کے لیے درخواست کو درخور اعتناء نہیں سمجھا تھا۔

ترک صدر نے منگل کو نیوز کانفرنس میں بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران گیس کی قیمت کم کردے تو ترکی اس سے مزید گیس خریدنے کو تیار ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کو غیرملکی کرنسیوں ڈالر اور یورو کے بجائے اپنی کرنسیوں میں تجارت کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ کرنسیوں کے عدم استحکام سے بچا جاسکے۔