.

تیونس : جنگجوؤں کے حملے میں چار فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے وسطی علاقے القصرین میں جنگجوؤں نے فوج کے ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کرکے چار فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان بلحسن الوسلاتی نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے قصبے سبتلہ کے نزدیک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا ہے۔یہ علاقہ الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔جنگجوؤں کے حملے میں تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔ترجمان نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار جبل مجیلہ کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔

تیونسی فورسز نے گذشتہ ماہ دارالحکومت تیونس میں مشہور باردو میوزیم پر مسلح افراد کے حملے میں اکیس غیرملکی سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی سخت کررکھی ہے۔انھوں نے حال ہی میں عجائب گھر پر حملے کے منصوبہ بندی میں ملوّث گروپ سے تعلق رکھنے والے نو مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔

دولت اسلامی (داعش) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔تاہم تیونسی حکومت کا کہنا تھا کہ عقبہ بن نافع گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا تھا۔اس گروپ کے جنگجو الجزائر کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے جبل الشعانبی میں تیونسی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

واضح رہے کہ تیونس میں 2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک برپا ہونے کے بعد سے کٹڑ قدامت پرست اسلام پسندوں نے سر اٹھایا ہے اور مقامی جنگجو گروپوں انصارالشریعہ اور عقبہ بن نافع نے سکیورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔