.

پاکستانی سرحد کے قریب جھڑپوں میں آٹھ ایرانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان متصل ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں مبینہ طورپرایک بلوچ مسلح گروپ کے ساتھ لڑائی میں ایرانی بارڈر پولیس کے کم سے کم آٹھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ سوموار کو صوبے کے جنوبی علاقے 'نغور' میں پیش آیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے بارڈر پولیس کے آٹھ اہلکاروں میں سے چار افسر اور چار سپاہی شامل ہیں۔ خبررساں ایجنسی نے واقعے کی ذمہ داری ایک بلوچ عسکریت پسند گروپ پر عاید کی ہے جو سنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ایرانی بارڈر پولیس نے پیر کو صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوب مشرق میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا۔ پیر کو علی الصباح القدس یونٹ کے ہیڈ کواٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں کےخلاف کی گئی کارروائی میں غیر ملکی خفیہ اداروں کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کا سراغ لگا کراس کے تمام عناصر کو قتل کردیا گیا ہے۔

اس بیان کےکچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع آئی کہ بلوچ عسکریت پسندوں نے باڈر پولیس پر فائرنگ کر کے متعدد سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 'قصر قند' اور 'نیک شہر' نامی مقامات پر فریقین میں خون ریز تصادم ہوا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود اور مواصلاتی رابطے کے لیے استعمال ہونے والے آلات بھی ضبط کرلیے ہیں۔

'صوت بلوچ' نامی ایک نیوز ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم مسلح افراد اور ایرانی بارڈر پولیس کے درمیان قصر قند کے مقام پر تصادم ہوا ہے جس میں پاسداران انقلاب کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ایران نے ان خبروں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سرحد سے متصل ایران کے سنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان میں شورش کا سلسلہ پرانا ہے۔ یہاں آئے روز بلوچ عسکریت پسندوں اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔