.

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط ایران معاہدے میں شامل نہیں: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط شامل کرنے کا مطالبہ بنیادی طور پر غلط فیصلہ ہے۔

اوباما نے امریکی ریڈیو نیٹ ورک این پی آر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا "اس بات کا تصور کرنا کہ ہم اس وقت تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کریں گے جب تک وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرلیتا ہے ایسا ہی ہے کہ جیسے یہ کہنا کہ ہم یہ معاہدہ اس وقت تک نہیں مکمل کریں گے جب تک ایرانی حکومت اپنی فطرت پوری طرح نہیں بدل لیتی ہے۔"

اوباما کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں یہ مطالبہ بنایادی طور پر غلط فیصلہ ہے۔"

اوباما نے کہا کہ ایران اسرائیل کو دھمکیاں اور خطے میں پراکسی جنگیں لڑنے کا سلسلہ روک دے مگر امریکی صدر نے ایران کے خطے میں کردار اور ایران کے ساتھ معاہدہ کو علیحدہ معاملات قرار دیا۔

اوباما کےمطابق "ہم ایران کو جوہری ہتھیار اسی لئے نہیں بنانے دینا چاہتے ہیں کیوںکہ ہم ایرانی حکومت کے تبدیل ہونے کا اعتبار نہیں کرسکتے ہیں۔ صرف اسی وجہ سے ہم جوہری ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔"

"اگر ایران نے اچانک اپنے آپ کو جرمنی، فرانس یا سویڈن میں تبدیل کردیا تو پھر اس کی جوہری تنصیبات کے بارے میں مختلف بحث ہوگی۔"