عرب ریاستوں کا احمد صالح کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے 15 رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے منگل کے روز یمن کی ایلیٹ ریپبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور شیعہ حوثی گروپ کے سب سے بڑے رہنما عبدالمالک الحوثی کے اثاثوں کو منجمند کرنے اور ان کے سفر پر پابندی لگانے کی قرار داد کا ڈرافٹ بنانے کا عمل شروع کردیا ہے۔

احمد الصالح کے والد یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور دو دیگر حوثی رہنمائوں خالق الحوثی اور عبداللہ یحییٰ الحاکم کو سیکیورٹی کونسل نے پہلے ہی بلیک لسٹ کررکھا ہے۔

اردن اور خلیج تعاون کونسل کے چھ اراکین کی جانب سے تیار کردہ اس قرارداد میں عرب ممالک نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی لگائی جائے۔

اس قرارداد کے ذریعے سے ان پانچ افراد اور ان سے وفادار کسی بھی فرد کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی لگ جائے گی۔

اس قرارداد میں رکن ممالک خاص طور پر یمن کے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یمن جانے والے تمام سامان کی تلاشی لیں۔

ڈرافٹ میں اس تنازعے کے سیاسی حل پر زور دیا گیا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے تیزترین طریقہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی دوران روس نے بھی ایک ڈرافٹ پیش کیا ہے جس میں اس نے آپریشن 'فیصلہ کن طوفان' کی کارروائیوں میں انسانی بنیادوں پر وقفے کا مطالبہ کیا تاکہ غیر ملکی شہریوں کو انخلاء کا موقع فراہم ہوسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں