.

شامی حکومت مخالف عالم دین برطانیہ میں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے مخالف عالم دین الشیخ عبدالھادی العروانی کو برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پراسرار طور پر ان کی کار میں مردہ پایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شیخ الھادی کی موت گولیاں لگنے سے ہوئی ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے مبینہ طور پر مقتول الشیخ العروانی کی موت کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الشیخ عبدالھادی العروانی مغربی لندن کی ’اکٹن‘‘ کالونی کی جامع مسجد النور کے سابق امام اور خطیب تھے۔ کل منگل کے روز ان کی گاڑی میں اُنہیں مردہ پایا گیا، جہاں انہیں گولیاں مار کرقتل کیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ اور پولیس ذرائع کے مطابق 48 سالہ الشیخ عبدالھادی العروانی کو شمالی لندن میں ’’ویمبلی‘‘ کالونی میں مقامی وقت کے مطابق صبح پونے گیارہ بجے ان کی کار میں نیم مردہ حالت میں دیکھا گیا۔ وہ اپنی فولکسفا گن باسٹ‘‘ کار میں خون میں لت پت تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جب موقع پرپہنچے تو اس وقت الشیخ عبدالھادی شدید زخمی تھے۔ ان کی میت ایک ایمبولینس ہیلی کاپٹرکی مدد سے اسپتال منتقل کی گئی لیکن کوئی آدھ گھنٹے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مقتول امام کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ان کے چھ بچے ہیں، جن میں سے سب سے چھوٹے کی عمرصرف ایک سال ہے۔ مقتول کا خاندان شام میں صدر بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے زیرعتاب رہا ہے۔ ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ ’’یوٹیوب‘‘ پر ان کی کئی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں انہوں نے سنہ 1982ء میں شامی حکومت کے ہاتھوں اٹھائے گئے ستم کا تذکرہ کیا ہے۔ ویڈیوز میں انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت کے مظالم کے نتیجے میں وہ اپنےایک بھائی، داماد، دو چچا زاد بھائیوں سے محروم ہوئے۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل الشیخ عبدالھادی نے برطانیہ منتقلی سے قبل اردن اور متحدہ عرب امارات میں بھی کچھ عرصہ قیام کیا۔ سنہ 2012ء میں انہوں نے مغربی لندن کی جامع مسجد النور میں امامت اور خطابت کے فرائض انجام دینا شروع کیے لیکن دو سال بعد مسجد کی انتظامیہ سے اختلافات کے بعد مسجد میں امامت ترک کردی تھی۔

حافظ الاسد کی تصویرکو جبرا بوسہ دلایا گیا

الشیخ عبدالھادی العروانی کے انتقال پر سوشل میڈٰیا پر ان کے ان کے دوستوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں ان کے جاننے والوں کی جانب سے الشیخ العروانی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ الشیخ عبدالھادی شام میں اخوان المسلمون سے منحرف ہونے والوں میں شامل ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا امامت ختم ہونے کے بعد ان کا ذریعہ معاش کیا تھا؟

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر پران کے ایک دوست نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ الشیخ العروانی نے ایک دفعہ بتایا کہ حماۃ میں قتل عام کے وقت ان کی عمرصرف بارہ سال تھی۔ شامی فوج کے ہاتھوں میرے خاندان کے کئی افراد قتل کردیے گئے۔ مجھے کہا گیا کہ اگر میں اپنی جان بچانا چاہتا ہوں تو مجھے حافظ الاسد کی تصویر کو بوسہ دینا ہوگا۔ مجھے جبرا بوسہ دلایا گیا۔ الشیخ العروانی اس واقعے کو یاد کر کے اکثر رو دیا کرتے تھے۔

ٹویٹر صارفین نے جامع مسجد النور کی جانب سے اپنے سابق امام اور خطیب کے قتل کی خبر جاری نہ کرنے پر حیرت کا بھی اظہار کیا ہے۔ اگرچہ پولیس ان کے مبینہ قتل کی تحقیقات کررہی ہے تاہم ''ویمبلی'' کالونی جہاں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ رہ رہے تھے کا کوئی فرد ان کی موت کے بارے میں آگاہ نہیں ہے اور کسی نے فائرنگ کی آواز تک نہیں سنی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ العریانی کے سر اور سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔