حوثیوں کی تہران سے مالی، عسکری اور تربیتی معاونت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ریاض کی قیادت میں جاری اتحادی فوج کے فیصلہ کن طوفان آپریشن کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایران اور حزب اللہ کی جانب سے حوثیوں کو عسکری تربیت، اسلحہ فراہمی اور مالی مدد کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو کئی مقامات پر پسپائی کا سامنا ہے اور ان کی تنظیم بری طرح منتشر ہو رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل العسیری نے ریاض میں ایک نیوز کانفرنس کو خطاب میں بتایا کہ ایران کی جانب سے یمنی حوثیوں کی امداد کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ کئی سال پرانا سلسلہ ہے جو تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ تہران سرکار کی جانب سے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے ان کی مالی مشکلات کے حل کے لیے کروڑوں ڈالر کی رقم بھی فراہم کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برطانوی خبر رساں ادارے’’رائیٹرز‘‘ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایران حوثی شدت پسندوں کی مالی اور عسکری شعبوں میں بھرپور مدد کرتا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے پچھلے سال ستمبر میں حوثی شدت پسندوں کی بھرپور مدد کی گئی تھی جس کے بعد حوثیوں نے ملک کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

ایران کی جانب سے حوثیوں کی فوجی اور مالی امداد کے دعوے صرف عالمی میڈیا پر ہی نہیں کیے جا رہے ہیں بلکہ خود ایرانی حکومت کے عہدیدار بھی اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی پاسداران انقلاب سے فوجی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یمن میں حوثی بغاوت کی کامیابی ایران کی شام اور عراق میں بالادستی کے قیام میں مدد گار ہو سکتی ہے۔

رائیٹرز کے مطابق تہران کی جانب سے حوثیوں کی مالی اور فوجی امداد بحری اور فضائی راستوں سے ہوتی رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی نے مغربی، ایرانی اور یمنی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی عسکری ماہرین حوثیوں کو یمن کے اندر اور بیرون ملک فوجی ٹریننگ دیتے رہے ہیں۔

جہاں تک حوثیوں کو مسلح کرنے کا معاملہ ہے تو اس باب میں بھی ایران پیش پیش رہا ہے۔ حوثیوں کو جدید ترین بیلسٹک میزائل ایران کی جانب سے فراہم کی گئے ہیں۔ یہ میزائل بحری جہازوں پرلاد کر یمن پہنچائے گئے۔ اس کے علاوہ ہلکے ہتھیاروں کی بھاری کھیپ بھی حوثیوں کو بحری جہازوں ہی کے ذریعے بھیجی جاتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت رکا جب سعودی عرب نے بحری ناکہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

اگرچہ اسلحے کی ایرانی سپلائی معطل ہوئی ہے مگر ایران کی جانب سے حوثیوں کو رقوم اب بھی مل رہی ہیں۔ یہ رقوم بنکوں کے ذریعے بھیجے جانے کے ساتھ ساتھ بریف کیسوں میں بھر کر بھی حوثیوں تک پہنچائی جاتی رہی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق حوثی شیعہ ملیشیا کو نہ صرف ایران کی جانب سے عسکریت تربیت دی جاتی رہی ہے بلکہ اس باب میں لبنانی حزب اللہ بھی پیش پیش رہی ہے۔ حزب اللہ نے لبنان میں موجود اپنے عسکری کیمپوں میں حوثیوں کو تربیت دی۔

صرف یہی نہیں بلکہ ایرانی عسکری عہدیداروں نے لبنانی حزب اللہ کی طرز پر یمنی حزب اللہ کی تشکیل بھی کی کوشش ی تھی۔ اگرچہ وہاں پر حزب اللہ کے نام سے تنظیم تو قائم نہیں ہوسکی تاہم حوثیوں نے عسکری تربیت حاصل کرنے اور اسلحے کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں