.

سعودی لڑاکا طیاروں میں دوران پرواز ایندھن بھرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے طیاروں نے سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم میں شریک لڑاکا طیاروں میں دوران پرواز ایندھن بھرنے کا کام شروع کردیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان کرنل اسٹیون وارن نے بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''امریکی فضائیہ کے طیارے کے سی 135 اسٹریٹوٹینکر نے منگل کی رات سعودی عرب کے ایک ایف 15 لڑاکا جیٹ اور متحدہ عرب امارات کے فائٹر فالکن (ایف) 16 میں دوران پرواز پہلی مرتبہ ایندھن بھرا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی فضائیہ کا دوران پرواز ایندھن بھرنے کے لیے ایک ٹینکر طیارہ اڑے گا اورسعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کی تمام پروازوں میں یمن کی فضائی حدود سے باہر ایندھن بھرا جائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز ضرورت پڑنے پر ہنگامی راڈار ائیرکرافٹ کی پرواز کے لیے بھی تیار ہیں۔تاہم امریکی حکام اور فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ امریکی امداد محدود ہے اور اس کا کوئی لڑاکا طیارہ یمن میں فضائی بمباری میں حصہ نہیں لے گا۔

امریکا یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے اور اس نے ایک روز قبل ہی کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کی سرگرمیوں میں تیزی لارہا ہے اور اپنے عرب اتحادیوں کو گائیڈڈ بم مہیا کرنے کا عمل بھی تیز کررہا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے امریکی فوج کی مرکزی کمان کو گذشتہ ہفتے سعودی عرب اور دوسرے اتحادی ممالک کے طیاروں میں دوران پرواز فضا میں ایندھن بھرنے کی اجازت دی تھی لیکن امریکی حکام کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی مہم کے دوران یمن کی فضائی حدود میں یہ آپریشنز نہیں کیے جائیں گے۔

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے قبل ازیں سعودی عرب کے لیے لاجسٹیکل اسپورٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔ایک سینیر فوجی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا حوثی فورسز کی نگرانی کے ضمن میں سعودی عرب کی مدد کررہا ہے اور سعودی عرب کی یمن کے ساتھ واقع سرحد کی بھی فضائی نگرانی کررہا ہے۔