تہران میں سعودی ناظم الامور کی وزارتِ خارجہ طلبی

سعودی ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کے ایران مخالف بیان پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی سفارت خانے کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے ان سے سعودی عرب کی وزارت دفاع اور اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کے اس بیان پر احتجاج کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران نے یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کو فوجی تربیت دی تھی۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سعودی سفارت خانے کے ناظم الامور کو بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کی بدھ کی رات نیوز بریفنگ کے دوران لگائے گئے ''بے بنیاد الزامات'' کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا''۔

سعودی ترجمان اپنی نیوز بریفنگ کے دوران ایران اور حزب اللہ پر حوثیوں کو عسکری تربیت دینے کا الزام عاید کیا تھا تاکہ وہ یمنیوں کو ''اذیت'' سے دوچار کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ ''ہمارے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایران نے حوثی ملیشیا کو لڑاکا طیارے اڑانے کی تربیت دی تھی''۔

ایران حوثی ملیشیا کو فوجی یا مالی امداد مہیا کرنے کے الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور ضمن میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرچکا ہے لیکن سعودی ترجمان کے بعد امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے بھی ایران پر یمن کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا اور جان کیری نے کہا تھا کہ امریکا ایران کی جانب سے حوثیوں کو دی جانے والی امداد سے آگاہ ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک مارچ کے آخری ہفتے سے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔ان حملوں کا مقصد حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کی عسکری صلاحیت پر ضرب لگانا اور انھیں دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں سے پسپا کرنا ہے۔

سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کی دارالحکومت صنعا پر قبضے اور جنوبی شہر عدن کی جانب پیش قدمی کے بعد صدر عبد ربہ منصور ہادی کی اپیل پر26 مارچ کو فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔حوثیوں کی ملک کے منتخب صدر کے خلاف بغاوت کے بعد تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت پورا ملک ہی طوائف الملوکی اور خانہ جنگی کی آگ میں جل رہا ہے۔مختلف شہروں میں حوثی جنگجوؤں کی صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں