پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کے دو افسر قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرحد سے متصل ایران کے صوبہ سیستان بلوچستام میں مہرستان کے مقام پر مسلح افراد کے حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے دو سینیر اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’’شرپسندوں‘‘ کے ایک گروپ نے صوبہ بلوچستان میں مہرستان کے مقام پر گھات لگا کر پاسداران انقلاب کے ایک قافلے پرحملہ کیا جس میں فوج کی مواصلاتی یونٹ کے دو سینیر اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت مُرتضی محمد باقی اور محمد محمدی سلیمانی کے نام سے کی گئی ہے۔ دونوں کو مہرستان کے ایک پہاڑی علاقے "بیر" میں حملےکا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں ان کی میتیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران منتقل کی گئیں۔

خیال رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے دو سینیر افسروں کی ہلاکت کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دو روز قبل صوبہ بلوچستان میں ایسی ہی ایک کارروائی میں پاسداران انقلاب کےآٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ سُنی اکثریتی صوبے کے عوام کے حقوق کے لیے مسلح کارروائیوں میں ملوث قرار دی گئی تنظیم جیش العدل نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ایران نے الزام عاید کیا تھا کہ حملہ آور کارروائی کے بعد پاکستانی علاقے میں فرار ہوگئے تھے۔ ایرانی بارڈر حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی حدود میں پناہ لینے والے جیش العدل کے جنگجوئوں کو پکڑ کر ان کےحوالے کریں، تاہم پاکستان نے ایرانی الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے اسےجیش العدل کے جنگجوئوں کا علم نہیں ہے۔ اگر ایران کے پاس جنگجوئوں کی صوبہ بلوچستان میں موجودگی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو وہ پیش کرے۔ پاکستان ان کے مطابق کارروائی کرے گا۔

خیال رہے کہ ایران نے گذشتہ سوموار کو جنوب مشرقی صوبے میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ ایرانی فوج کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کا سراغ لگا کر اس کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں شدت پسند منتشر ہوگئے ہیں۔ بارڈرحکام نے متعدد شدت پسندوں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

گذشتہ روز ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر بھی صوبہ بلوچستان کی سرحد پر جاری کشیدگی کا معاملہ زیربحث آیا تھا۔ انہوں نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ سرحد پر کشیدگی پیدا کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی میں تہران کے ساتھ تعاون کرے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران صوبہ بلوچستان کی سرحد پر عسکری کارروائیوں کا خاص طور پر ذکر کیا کہا کہ شدت پسندانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے دونوں ملکوں کے سیکیورٹی حکام کا ایک دوسرے کو معلومات کا تبادلہ کرنا بھی ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں