چھوٹا قد دل کے امراض کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سٹڈی نے جینیات کی تحقیق کرنے کے بعد انسانی جسم کی لمبائی اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چھوٹے قد کے افراد کو پوری زندگی میں شریانوں میں رکاوٹ کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

اس سٹڈی میں پہلی بار دکھایا گیا ہے کہ یہ زیادہ خطرہ اسی لئے ہے کیوںکہ اس کا تعلق ان جینز سے ہوتا ہے جو کہ انسان کے لمبے یا چھوٹے ہونے میں اثر رکھتی ہیں۔ اس ریسرچ کو نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن نے شائع کیا ہے۔

ریسرچرز نے دو لاکھ افراد کے ڈیٹا بیس میں سے 180 مختلف جینیاتی حالتوں کا جائزہ لیا اور ان افراد میں دل کے امراض کے مریض اور صحت مند افراد شامل تھے۔

دل کے امراض دنیا بھر میں جوانی میں اموات کی وجوہات میں سے ایک ہے جس کے نتیجے میں ہر چھ مردوں سے میں سے ایک مرد اور ہر دس خواتین میں ایک خاتون ان کا شکار ہو کر وفات پاجاتے ہیں۔

ریسرچ میں یہ دریافت کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی اونچائی میں ڈھائی انچ یا 6٫3 سینٹی میٹر کی لمبائی کی وجہ سے ان کو دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات میں 13٫5 فی صد کا فرق پڑ جاتا ہے۔

سٹڈی کے شریک مصنف کرسٹوفر نیلسن کا کہنا تھا "کسی بھی انسان میں جتنے زیادہ لمبائی بڑھانے والے جینز ہوتے ہیں ان میں دل کی بیماریوں کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ جینیاتی وجوہات سے چھوٹے رہ گئے ہیں تو آپ کو دل کی بیماریوں کے اتنے ہی زیادہ خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔"

ریسرچرز نے امید ظاہر کی کہ انسانی لمبائی اور دل کے امراض سے متعلقہ جینز کے مزید مطالعہ سے مستقبل میں بہتر احتیاط اور علاج کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

اس سٹڈی کے مصنف سر نیلیش سمانی کا کہنا تھا "60 سال سے زائد عرصے یہ معمول رہا ہے کہ انسانی جسم کی لمبائی اور دل کے امراض کے درمیان کوئی رابطہ ہے۔"

"اب جینیاتی تعلیم کا استعمال کرتے ہوئے ریسرچرز نے دکھایا ہے کہ چھوٹے قد اور دل کی بیماریوں کے زیادہ امکانات کے درمیان تعلق بنیادی نوعیت کا ہے اور اس میں دوسرے عوامل کا ہاتھ نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں