.

ترکی، پاکستان کا یمن میں امن کے لئے کوششیں تیز کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور دونوں رہنمائوں نے یمن میں جاری بحران کے پر امن حل کے لئے کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان نے اس سے پہلے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ یمن میں حوثیوں باغیوں کے خلاف سعودی سربراہی میں جاری آپریشن "فیصلہ کن طوفان" میں شرکت نہیں کی جائیگی۔

ترکی نے کھلم کھلا اس آپریشن کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ یہ رابطہ ترک صدر کی سعودی بادشاہ اور امیر قطر کے ساتھ ملاقات کے بعد ہوا تھا۔

انقرہ میں قائم پاکستانی سفارتخانے کے مطابق 45 منٹ کی اس فون کال میں ایردوآن اور شریف نے زور دیا حوثیوں کو یمن کی قانونی حکومت کو گرانےبکا حق نہیں تھا اور ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو اگر کوئی خطرہ درپیش ہوا تو دونوں ممالک سخت ردعمل دیں گے۔

نیٹو کے اتحاد میں دوسری سب سے بڑی فوج رکھنے والے ملک ترکی نے یمن میں جاری آپریشن میں ابھی تک حصہ نہیں لیا ہے مگر اس نے اتحاد کو لاجسٹک اور انٹیلی جنس معاونت کی پیش کش کی ہے۔